انوارالعلوم (جلد 22) — Page xx
۱۵ وحی اپنی ذات میں بتا رہی ہے کہ آنحضور ﷺ بلند کریکٹر کے مالک تھے۔آپ نے اس حوالہ سے مزید فرمایا۔غرض اِقْرَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ میں بظاہر ایک پیغام دیا گیا ہے لیکن بباطن اس پیغام کے الفاظ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے اخلاق پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ علیہ بلا دلیل کسی کام کو کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔نہ بلا حق کسی سے کوئی کام کروانے کے لئے تیار تھے اور نہ کسی بے نتیجہ کام کو کرنے کے لئے تیار ہوتے۔ان تینوں اخلاق کو پیش کر کے محمد رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی مثال بھی دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔“ (۱۸) ہجرت مشرقی پنجاب سے پاکستان ہجرت پر حضرت مصلح موعود نے دلوں کو گرما دینے والا یہ مضمون احباب جماعت کو حوصلہ اور دلاسہ دینے کی غرض سے تحریر فرمایا۔جس میں آپ نے آنحضور ﷺ کی باوجود مکہ سے محبت کے وہاں سے ہجرت کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ آپ ﷺ نے مکہ چھوڑا مگر اس عزم صمیم کے ساتھ کہ پھر مکہ کو فتح کریں گے۔ہماری یہ ہجرت بھی خدا کی خاطر ہے اس لئے آنحضور ﷺ کی تقلید میں میں مشرقی پنجاب آنے والے سب لوگوں سے کہتا ہوں کہ آؤ ہم بھی اپنے آقا رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں تہیہ کر لیں کہ اپنے آبائی وطن کو لوٹیں گے اور ضرور کوٹیں گے لیکن بغض اور کینہ اور انتقام کے جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ انسانیت اور روحانیت کے تقاضوں کے جواب میں اور ہمدردی اور محبت کے جذبات لئے ہوئے۔۔۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت وہاں قائم کریں جس طرح ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ نے قائم کی۔الله (۱۹) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء کے افتتاحی اجلاس منعقدہ ۲۶ / دسمبر کو