انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 129

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲۹ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو سے ملنا جلنا چھوڑ دے گی اور یہ ڈر کے مارے ہم سے مل جائیں گے لیکن ان کے فتوے بیکار گئے۔جنہوں نے احمدیت کا لطف اُٹھایا اور جنہوں نے احمدیت کی باتوں پر غور کیا وہ سمجھ گئے کہ اگر روحانی چاشنی اور روحانی لذت کہیں سے مل سکتی ہے تو احمدیت سے ہی مل سکتی ہے اس لئے کفر کے فتوے اور اعلان ان لوگوں کے لئے بیکار ثابت ہوئے اور وہ جماعت میں شامل ہونا شروع ہوئے۔سورج اور چاند کو گرہن لگا اور اُسی طرح لگا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔طاعون پھیلی اور شہروں کے شہر اور قبیلوں کے قبیلے صاف ہو گئے اور سینکڑوں نے نہیں بلکہ ہزاروں نے محسوس کیا کہ اب آسمان زمین پر تغیر چاہتا ہے اب خدا کچھ کر کے دکھانا چاہتا ہے تب کچھ یہاں سے اور کچھ وہاں سے ، کچھ اس جگہ سے کچھ اُس جگہ سے ، کچھ اس بستی سے اور کچھ اُس بستی سے، کچھ اس شہر سے اور کچھ اُس شہر سے احمدیت میں داخل ہونے شروع ہوئے اور سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ گئے۔جب جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی گئی ہے اُس وقت پہلے جلسہ میں تین سو سے کچھ اوپر لوگ شامل ہوئے اور ان تین سو میں سے بعض آٹھ آٹھ ، نو نو سال کے بچے بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالا نہ ہوا اس پر ساڑھے سات سو آدمی جمع تھا اور اس ساڑھے سات سو آدمی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود کی طبیعت پر اتنا اثر ہوا کہ آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے مجھ سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا اور اب میری وفات کا وقت قریب ہے چنانچہ چند ماہ کے بعد ہی آپ فوت ہو گئے۔اب ایک ایک شہر میں اس سے بہت زیادہ جماعت پائی جاتی ہے بلکہ بعض شہروں میں تو پانچ پانچ ، سات سات بلکہ آٹھ آٹھ ہزار افراد پائے جاتے ہیں۔۔اب گجا وہ زمانہ کہ ساڑھے سات سو آدمی کے آنے کو بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا اور گجا یہ زمانہ کہ ایک ایک شہر میں اس سے بہت زیادہ افراد پائے جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں جو آخری جلسہ ہوا اُس میں اٹھارہ سو آدمی تھا