انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 128

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲۸ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو بھی یہاں بیٹھی ہوئی میری تقریر سُن سکیں گیں۔اس سال تو خصوصیت کے ساتھ یہ بات بھی یا د ر کھنے والی ہے کہ گزشتہ سال کے جلسہ کے بعد سے میں متواتر بیمار چلا آیا ہوں اور خصوصیت کے ساتھ چھ مہینے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ گلے کی بیماری رہی ہے۔بعض اوقات تو آواز بالکل بند ہو جاتی تھی اور محض ہونٹوں سے ہوا نکل سکتی تھی۔اب بھی میرے گلے کی حالت ایسی ہے کہ میں بولتے وقت تکلیف محسوس کرتا ہوں۔دو دن سے نزلہ دوبارہ میرے کان پر اور ناک پر اور گلے پر گر رہا ہے۔ان حالات میں ضروری ہے کہ گلے کی حفاظت جہاں تک ہو سکے کی جائے اور اگر یہ خیال میں نہ رکھوں تو شاید باقی تقریریں کرنی بھی میرے لئے مشکل ہو جائیں بلکہ بظاہر حالات اب بھی مشکل نظر آتا ہے کہ میں دونوں دنوں کی تقریریں کر سکوں پس میں اسی نیت سے آیا ہوں کہ صرف چند باتیں آپ کے سامنے کروں یہی وجہ تھی کہ میں جان بُو جھ کر وقت سے دیر کر کے آیا ہوں کیونکہ اگر میں وقت پر آتا تو مجبوراً میں تقریریں بھی زیادہ کرتا۔اب یہاں سے جا کر میں نے نمازیں پڑھانی ہیں اور پھر تقریر شروع کرنی ہے پس میں نے مناسب سمجھا کہ دیر سے جاؤں اور صرف چند منٹ بولوں ، نماز پڑھاؤں اور پھر دوسری تقریر کروں جو اگر لاؤڈ سپیکر خراب نہ ہو ا تو انشاء اللہ آپ کو اسی طرح پہنچے گی جس طرح مردوں کو پہنچ رہی ہوگی۔میں آج احمدی خواتین کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرانا چاہتا ہوں کہ ” ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد‘ ہر زمانے کے ساتھ انسان کا طور و طریق بدلتا چلا جاتا ہے۔ایک زمانہ ایسا تھا کہ احمدیت بہت ہی کمزور تھی چند افراد احمدیت میں داخل تھے اور عام طور پر لوگ خیال کرتے تھے کہ یہ چند دن کے مہمان ہیں ایک کھیل ہے جو کھیلا جارہا ہے جیسے کسی شخص کو جوں کاٹ لیتی ہے یا پتو کاٹ لیتا ہے یا مچھر کاٹ لیتا ہے اسی طرح وہ سمجھتے تھے کہ چند احمدیوں کی حیثیت ایک جوں یا ایک مچھر یا ایک پتو سے زیادہ نہیں اسی لئے ان کی مخالفت کا رنگ بھی نرالا تھا۔ایک مخالف مولوی سمجھتا تھا کہ اگر میں نے قلم اُٹھا کر لکھ دیا کہ احمدی کا فر ہیں تو یہ اُسی وقت ختم ہو جائیں گے اور تمام دنیا میرے فتوے کے نیچے ان