انوارالعلوم (جلد 22) — Page 130
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳۰ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔۔فرائض ادا کرو اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اب جماعت بہت زیادہ پھیل گئی ہے اور پہلے سے کئی گنا طاقتور ہو گئی ہے۔اس کے مقابلہ میں قادیان کے آخری جلسہ میں چالیس ہزار سے اوپر احمدی شامل تھا اور اب بھی کل شام کے کھانے کی جور پورٹ ملی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوبیس ہزار مرد و عورت نے کل شام کا کھانا کھایا ہے۔۲۶ کی شام سے ۲۷ کی شام کی حاضری عام طور پر زیادہ ہوا کرتی ہے پس کوئی بعید بات نہیں کہ چھیں ستائیس ہزار کی حاضری ہو جائے۔اب گجا سات سو گیا اٹھارہ سو اور گجا ستائیس ہزار آدمی کا جلسہ پر جمع ہو جانا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سوائے افغانستان کے باہر کے کسی ملک میں احمدی جماعت نہیں تھی مگر اب احمدیت انڈونیشیا میں ، ایران میں ، شام میں، لبنان میں ، مصر میں ، سوڈان میں ، ایسے سینیا میں، کینیا میں، یوگنڈا میں ، ٹانگا نیکا میں، سیرالیون میں، گولڈ کوسٹ میں، نائیجیریا میں، انگلینڈ میں ، سپین میں ، ہالینڈ میں ، جرمنی میں ، سوئٹزر لینڈ میں ، یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں ، نارتھ امریکہ میں ، ماریشس میں ، ملایا میں ، بور نیو میں، سیلون میں، برما میں اور اسی طرح اور کئی علاقوں میں قائم ہے جو شاید اس وقت مجھے یاد بھی نہ ہوں اور بعض جگہ تو اتنی بڑی تعداد میں جماعت پائی جاتی ہے کہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ ، ہزار آدمی وہاں احمدی ہو چُکا ہے۔پس جو کیفیت آج سے پچاس سال پہلے تھی اور جو اُس وقت کے لحاظ سے ہمارے لئے کافی سمجھی جاسکتی تھی وہ آج کافی نہیں ہو سکتی۔بچپن میں جو کپڑے پہنے جاتے ہیں وہ بڑی عمر ہونے پر نہ قد کے لحاظ سے کافی ہوتے ہیں اور نہ قسم کے لحاظ سے کافی ہوتے ہیں۔چھوٹے بچے کو جس قسم کا کپڑا پہنایا جاتا ہے وہ جوان عمر والے کو نہیں پہنایا جا تا اور پھر جتنا کپڑا چھوٹے بچے کے لئے کافی ہوتا ہے اتنا کپڑا جوان عمر والے کے لئے کافی نہیں ہو سکتا پس وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے۔اب ضرورت ہے کہ جماعت کا ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے مرد بھی اور عورت بھی ، بڑا بھی اور چھوٹا بھی ، تاجر بھی اور صناع بھی ، وکیل بھی اور ڈاکٹر بھی ، عالم بھی اور ان پڑھ بھی ، پروفیسر بھی اور شاگرد بھی،