انوارالعلوم (جلد 22) — Page 508
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۰۸ سیر روحانی (۶) شخص کو کوئی عہدہ دیتا تھا لیکن دوسرے دن بادشاہ فوت ہو جاتا۔اس کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین ہوتا اور وہ اسے ذلیل کر دیتا، لیکن ہمارے دربارِ خاص میں بیٹھنے والا بادشاہ فرماتا ہے۔الله لا إله إلا هُوَ الْحَيُّ القَيُّومُ سے تمہارا بادشاہ وہ ہے جو زندہ ہے کبھی مرنے والا نہیں اس لئے تم کو ڈرنا نہیں چاہئے اس کی طرف سے جوڑ تبہ تمہیں ملے گا اُسے کوئی چھینے گا نہیں۔دیکھو انگریزوں نے لوگوں کو خطابات دیئے تھے دنیوی خطابات کا انجام مگر اب ہندوستان اور پاکستان میں روزانہ اعلان ہوتے ہیں کہ ہم ان خطابات کو چھوڑتے ہیں۔صرف چند ڈھیٹ ابھی تک ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے ہیں جو ان خطابوں سے چھٹے بیٹھے ہیں ورنہ باقی سب اپنی اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ میں نے ”خان بہادر کا خطاب چھوڑا، میں نے فلاں خطاب چھوڑا، میں نے ”جی ہی۔آئی۔ای“ کا خطاب چھوڑا ، میں نے فلاں خطاب چھوڑا یہ سب لعنتی چیزیں ہیں۔پہلے انہی خطابوں کے لئے خوشامد میں کرتے پھر تے تھے اور اب لعنتی چیزیں بن گئیں کیونکہ بادشاہت بدل گئی یا بادشاہ کی جگہ اُس کا بیٹا آ گیا تو پھر بیٹے کی پارٹی برسر اقتدار آ جاتی ہے اور باپ کی پارٹی رہ جاتی ہے۔لیکن الله لا اله الا هو الحي القيوم: کہنے والا فرماتا ہے تمہیں گھبراہٹ کیوں ہو، تمہیں خطرہ کیوں گزرے، تمہارا دل کیوں دھڑ کے، تمہارا جس بادشاہ سے تعلق ہے وہ جو خطاب بھی تمہیں دے گا وہ چلتا چلا جائے گا اس کو کوئی دوسرا با دشاہ بدلنے والا نہیں کیونکہ کوئی نئی حکومت نہیں آئے گی۔بادشاہوں کے خلاف پھر درباروں میں سازشوں کی وجہ سے یہ بھی ہوتا تھا کہ لوگ چوری چھپے باتیں کرتے رہتے دربارِ خاص میں منصوبے تھے یعنی بادشاہ کے سامنے تو قصیدے پڑھے جارہے ہوتے تھے اور گھروں میں یا مجلسوں میں یہ کہا جاتا تھا کہ دیکھو! بادشاہ نے فلاں بات کی ہے اور ہمارے حقوق اس نے تلف کر دیئے ہیں اب اِس اِس طرح ہم کو فریب