انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 507

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۰۷ سیر روحانی (۶) کے دربار میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ ہمارا خدا اس بات کی احتیاج رکھتا ہو کہ وہ اس کی مدد کرے اسی لئے فرماتا ہے وَكَبَرُهُ تَكْبِيرًا اب تو نڈر ہو کر خدائے واحد کی تکبیر کر کیونکہ اور کوئی شریک نہیں جو تجھ سے مطالبہ کرے کہ تھوڑی سی تکبیر میری بھی کر لیا کر۔اس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی اور نہ کوئی شریک ہے۔وہاں تو ڈرتے ہیں کہ بادشاہ کی تعریف کی تو ولیعہد ناراض ہو جائے گا ولیعہد کی تعریف کی تو چھوٹا شہزادہ ناراض ہو جائے گا یہ ایک ہی دربار ہے جو ان سارے جھگڑوں سے آزاد ہے۔خوشامد ، جھوٹ اور مداہنت کے اڈے یہ ہے کہ دنیوی بادشاہوں کے دیوان خاص میں یہ تین لہریں ہی پس پردہ چلتی ہیں، بیٹے اپنا رُسوخ چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہلا استحقاق حکومت ان کی ہو اور قربانی دوسروں کی۔بیویاں علاوہ اپنے نفوذ کے اپنی اپنی اولاد کی تائید میں امراء کو کرنا چاہتی ہیں۔ایک کہتی ہے امراء میرے بیٹے کی طرف ہو جائیں اور دوسری کہتی ہے کہ میرے بیٹے کی طرف ہو جائیں۔غدر کا سارا جھگڑا اسی وجہ سے ہؤا کہ بعض بیگمات کہتی تھیں ہمارا بیٹا تخت نشین ہو جائے اور دوسری کہتی تھیں ہمارا ہو جائے۔ظاہر میں بادشاہ کی خدمت کا دعویٰ ہوتا تھا لیکن باطن میں کسی خاص شہزادہ یا ملکہ کی امداد کا دم بھر رہے ہوتے تھے اور پھر ایک دوسرے کے خلاف بادشاہ کے کان بھرتے تھے۔قربانی اور اخلاص کی قدر نہیں ہوتی تھی خوشامد اور جھوٹ کی قدر ہوتی تھی۔یا بعض دفعہ کوئی جابر امیر بادشاہ پر حاوی ہو جاتا تھا اور درباریوں کو اُسے خوش کرنے کی فکر رہتی۔لیکن قرآن کے دربارِ خاص میں یہ باتیں نہیں۔وہاں نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی ، نہ کوئی جابر حاکم ہے بلکہ خالص خدا ہے جس کی نہ چغلی کی جاسکتی ہے نہ غیبت کی جاسکتی ہے نہ کسی اور کو خوش کرنے کے لئے اس سے مداہنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر دُنیوی بادشاہوں کی اولاد ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا بادشاہ ان کی موت کی متعھی ہوتی تھی اور چاہتی تھی کہ یہ مریں تو ہم بادشاہ ہو جائیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بادشاہ ایک