انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 509

انوار العلوم جلد ۲۲ سیر روحانی (۶) کرنا چاہئے ، یہ یہ چالاکیاں کرنی چاہئیں یہ دنیوی بادشاہوں کے دربارِ خاص کے نقائص ہو ا کرتے تھے۔اس دربارِ خاص کو میں نے دیکھا تو اس کے متعلق لکھا تھا لا يَعْذِّبُ عَنْهُ مثقال ذرة في السموتِ وَلا فِي الْأَرْضِ وَلا أَصْغَرُ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرُ إِلَّا ي كتب مبین کے فرماتا ہے اس قرآنی در بارِ خاص کا بادشاہ عالم الغیب ہے۔اس کا دیا ہوا انعام راستہ میں کہیں غائب نہیں ہو سکتا۔یہاں تو یہ تھا کہ بادشاہ نے خلعت پہنایا اور گھر پہنچنے سے پہلے پہلے راستہ میں کسی نے خنجر مار دیا گویا انعام تو ملا مگر انعام سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکا مگر یہ وہ بادشاہ ہے کہ چونکہ یہ عالم الغیب ہے اس لئے جس شخص کو یہ انعام دیتا ہے اُس کی نگرانی بھی کرتا ہے کہ انعام اُس کو پہنچ جائے اور خواہ کوئی کتنا زور لگالے، کتنی ہی طاقت خرچ کر لے وہ اس خطاب سے محروم نہیں ہوسکتا وہ خدا کی دی ہوئی چیز ہے اُس کو کون لے سکتا ہے مگر دُنیوی بادشاہوں کی دی ہوئی چیز تو بسا اوقات ضائع ہو جاتی ہے بلکہ بعض دفعہ وہ آپ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ایک مشہور تاریخی واقعہ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے شبلی ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں یہ امیر گھرانے کے تھے اور یہ بغداد کے بادشاہ کے گورنر تھے۔وہ کسی کام کے متعلق بادشاہ سے مشورہ کرنے کے لئے اپنے صوبہ سے دار الحکومت میں آئے۔اُنہی دنوں ایک کمانڈر انچیف ایران کی طرف سے ایک ایسے دشمن کے مقابلہ میں بھیجا گیا تھا جس سے کئی فوجیں پہلے شکست کھا چکی تھیں اُس نے دشمن کو شکست دی اور ملک کو دوبارہ مملکت میں شامل کیا۔جب وہ واپس آیا تو بغداد میں اس کا بڑا بھاری استقبال کیا گیا اور بادشاہ نے بھی ایک دربارِ خاص منعقد کیا تا کہ اُسے انعام دیا جائے اور اُس کے لئے ایک خلعت تجویز کیا جو اُس کے کارناموں کے بدلہ میں اُسے دیا جانا تھا مگر بدقسمتی سے سفر سے آتے ہوئے اُسے نزلہ ہو گیا دوسری بد قسمتی یہ ہوئی کہ گھر سے آتے ہوئے وہ رومال لانا بھول گیا۔جب اُس کو خلعت دیا گیا تو دستور کے مطابق اس کے بعد اُس نے تقریر کرنی تھی کہ میں آپ کا بڑا ممنون ہوں آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے اور میری تو اولاد در اولا داس چار گز کپڑے کے بدلے میں