انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 656

انوار العلوم جلد ۲۲ اتحاد المسلمین کچھ نہ کہیں ورنہ ہم سب مسلمان مل کر ان کا مقابلہ کریں گے تو انہوں نے باقی مسلمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ اس تحریک میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔اور اس کے تعلق میں لکھنؤ میں ایک جلسہ کیا گیا۔میں نے جب اس بات پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ شیعہ اور اہل حدیث سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے اور نہ خوارج اسے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں اور پھر ہم احمدی بھی اس بات کے خلاف ہیں۔ہمارا ہیڈ خود خلیفہ ہوتا ہے۔میں نے خیال کیا کہ یہ سارے لوگ یہ بات کیوں کہیں گے کہ ہم سب مسلمان سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ مانتے ہیں اس لئے اگر تم نے اس پر ہاتھ ڈالا تو ہم سب متحد ہو کر اس کی امداد کریں گے۔میں نے جلسہ میں شرکت کے لئے ایک وفد لکھنو بھیجا اور انہیں تحریری پیغام بھجوایا کہ اگر تم اس صورت میں انگریزوں کے پاس جاؤ گے تو وہ کہیں گے کہ خوارج ، اہل حدیث اور شیعہ مسلمان عبدالحمید کو اپنا خلیفہ نہیں مانتے تم کیسے کہتے ہو کہ وہ سب مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔میں نے کہا تم یوں کہو کہ سلطان تر کی جسے مسلمانوں کی اکثریت خلیفہ تسلیم کرتی ہے اور باقی مسلمان بھی ان کا احترام کرتے ہیں اگر تم نے اسے کچھ کہا تو ہم سب مسلمان مل کر تمہارا مقابلہ کریں گے اگر تم یوں کہو گے تو کام بن جائے گا۔کسی احمدی ، شیعہ یا اہل حدیث کو یہ جرأت نہیں ہو سکے گی کہ وہ کہے سلطان عبد الحمید کو مار دو۔وہ دل میں بے شک کہے لیکن اس کا زبان سے اظہار نہیں کرے گا۔مولانا شوکت علی کی طبیعت جوشیلی تھی۔جب وفد میرا خط لے کر گیا تو انہوں نے کہا یہ تفرقہ کی بات ہے۔پندرہ دن کے بعد اہلِ حدیث کی طرف سے اعلان شائع ہوا کہ ہم سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے ،شیعوں کی طرف سے بھی اس قسم کا اعلان شائع ہوا اور پھر سر پھٹول شروع ہو گئی۔خوارج اس ملک میں موجود نہیں تھے ورنہ وہ بھی اس قسم کا اعلان کر دیتے اور پھر سال ڈیڑھ سال کے بعد خود ترکوں نے بھی اُسے جواب دے دیا تین چار سال کے بعد شملہ میں ہم سب ملے تو مولانا محمد علی نے کہا کتنا اچھا کام تھا لیکن آخر ہم اس میں نا کام ہو گئے مسلمانوں میں تفرقہ ہو گیا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔میں نے کہا مولا نا میں نے مشورہ دے دیا تھا کہ یہ نہ لکھا جائے کہ ہم سب مسلمان سلطان ترکی کو