انوارالعلوم (جلد 22) — Page 657
انوار العلوم جلد ۲۲ اتحاد المسلمین خلیفہ مانتے ہیں کیونکہ اہلِ حدیث ، خوارج ، شیعہ اور ہم احمدی اسے خلیفہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ کہا جائے کہ سلطان ترکی جس کو مسلمانوں میں سے اکثریت خلیفہ مانتی ہے اور جو خلیفہ نہیں مانتے وہ بھی ان کا احترام کرتے ہیں، اگر میری بات مان لی جاتی تو یہ نا کامی نہ ہوتی۔اُنہوں نے کہا آپ نے یہ مشورہ ہمیں دیا ہی نہیں۔میں نے کہا آپ کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کو دیا تھا مگر اُنہوں نے کوئی توجہ نہ کی۔میں نے کہا اگر آپ میرا مشورہ مان لیتے تو اہلِ حدیث ، خوارج اور شیعہ کو شکایت پیدا نہ ہوتی۔آپ یہ لکھتے کہ اکثریت مسلمانوں کی سلطان ترکی کو خلیفہ مانتی ہے اور اقلیت اسے اپنے اقتدار کا نشان مانتی ہے۔وہ افسوس کرنے لگے کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔پس شیعہ سنی اور حنفی وہابی اور احمدی غیر احمدی کے اختلافات کو چھوڑ دیا جائے اور ان کی اتحاد کی باتوں کو لے لیا جائے۔یہی اتحاد کا اصول ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات کی دعوت دی تھی۔پھر دوسرا اصول اتحاد کا یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز پر قربان کر دیا جائے۔اگر تم دیکھتے ہو کہ ہر بات میں اتحاد نہیں ہوسکتا تو تم چھوٹی باتوں کو چھوڑ دو اور بڑی باتوں کو لے لو۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جہاں توحید کا ذکر کرتا ہے وہاں ماں باپ کا بھی ذکر کرتا ہے اور ان کی اطاعت اور فرمانبرداری پر زور دیتا ہے لیکن جب انبیا ء دُنیا میں آئے اور ان کی قوم نے یہ کہا کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے تو خدا تعالیٰ نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا تم جاہلوں کی بات مانتے ہو۔باپ دادے کی عزت بے شک بڑی ہے لیکن جب ان کا مقابلہ خدا تعالیٰ سے ہو جائے تو انہیں چھوڑ دو۔پس اتحاد کا دوسرا گر بہ ہے کہ تم چھوٹی باتوں کو بڑی باتوں پر قربان کرنے کی روح پیدا کرو۔سچائی کو ہرگز نہ چھوڑو وہاں قومی رسم و رواج کو چھوڑنا پڑے تو کوئی بات نہیں۔پس ان دونوں باتوں پر عمل کیا جائے تو اتحاد ہو سکتا ہے۔اس وقت پاکستان ، لبنان، عراق ، اُردن، شام، مصر، لیبیا، ایران، افغانستان ، انڈونیشیا اور سعودی عرب یہ گیارہ مسلم ممالک ہیں جو آزاد ہیں اور ان سب میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔اگر