انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 655

انوار العلوم جلد ۲۲ اتحاد المسلمین ہم آپس کے اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں لیکن باوجود اس اختلاف کے ہم اکٹھے رہیں گے اور دشمن کامل کر مقابلہ کریں گے۔لائڈ جارج نے تو یہ بات آج کہی ہے لیکن اسلام نے ساڑھے سترہ سو سال قبل یہ بات کہی تھی کہ اے عیسائیو اور یہودیو! تم ہم سے کیوں جھگڑتے ہو کیا تم میں اور ہم میں اتحاد کا کوئی پوائنٹ موجود ہے یا نہیں ؟ اور اگر اتحاد کا کوئی پوائنٹ موجود ہے تو آؤ پہلے اسی کو لے لو اور اس پر متحد ہو جاؤ۔پس اتحادالمسلمین کے لئے ضروری ہے کہ باہمی اختلافات کو چھوڑ دیا جائے اور اتحاد کے جو ممکن پہلو ہوں انہیں لے لیا جائے۔اگر کوئی کہے کہ اگر تم صرف اتحاد کے پہلو لے لو تو اختلاف والی باتوں میں کیا کرو گے تو اس کا حل بھی قرآن کریم نے بتا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن باتوں میں تمہارا اختلاف ہے ان میں تم اپنی اپنی کتاب اور تعلیم کے مطابق چلو اور اس کے مطابق اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کرو۔فرمایا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس انجیل اور تو رات ہے وہ ان پر عمل کر سکتے ہیں جیسے فرمایا وَ مَن لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَيْكَ هُمُ الكَفِرُونَ ١٨ پس ایک طرف تو یہ کہا کہ یہودی اور عیسائی اپنی اپنی تعلیم پر چلیں اگر وہ اپنی تعلیم پر نہیں چلیں گے تو وہ خائن ہوں گے اور دوسری طرف یہ کہا کہ تم اکٹھے ہو جاؤ یعنی دونوں پوائنٹ کو لیا ہے کہ اختلاف قائم کرو اور اتحاد کے پوائنٹ کو لے کر جو تم دونوں کے درمیان مشترک ہوا کٹھے ہو جاؤ۔پھر یہ قدرتی بات ہے کہ اگر ہم اکٹھے ہو کر بیٹھ جائیں گے تو آہستہ آہستہ اتحاد کی کئی صورتیں نکل آئیں گی۔فلاں مردہ باد اور فلاں زندہ باد کے نعروں سے کچھ نہیں بنتا۔اگر کوئی نقطہ مرکزی ایسا ہے جس پر اتحاد ہو سکتا ہے تو اس کو لے لو کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اختلافات قائم رکھو بلکہ بعض دفعہ یہاں تک کہتا ہے کہ ہم اختلافات رکھنے میں تمہاری مدد کریں گے۔پھر یہ بیوقوفی کی بات ہے کہ ہم ان اختلافات کی وجہ سے اتحاد کو چھوڑ دیں۔میں نے عملی طور پر بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔جب تحریک خلافت کا جھگڑا شروع ہوا اور مولا نا محمد علی اور شوکت علی نے یہ تحریک شروع کی کہ انگریزوں کو کہا جائے کہ وہ سلطان ترکی کو جسے ہم مسلمان خلیفہ تسلیم کرتے ہیں