انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 633

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۳۳ اتحاد المسلمین ایک بھی تو اسلامی ملک ایسا نہیں جس نے جنگی سامان پیدا کیا ہو۔جنگی سامان سے یہ مراد نہیں کہ اس نے رائفلیں مرمت کر لی ہوں یا رائفلیں بنالی ہوں۔رائفل کو اس زمانہ میں کوئی حیثیت حاصل نہیں۔جنگی سامان بڑی بڑی تو ہیں ہیں، اینٹی ایر کرافٹ گئیں ہیں، ڈسٹرائر ہیں، آبدوز کشتیاں ہیں، ہوائی جہاز ہیں، کروزر ہیں یہ جنگی سامان کسی اسلامی ملک میں بھی تیار نہیں کیا جاتا بلکہ اگر جھگڑا ہوا ہے تو اسی بات پر کہ امریکہ اور برطانیہ ہمیں جنگی سامان نہیں دیتے۔اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ ہم جنگ کے لئے تیار نہیں۔ہاں اگر تم ہماری مدد کرو تو ہم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔بہر حال اب تک جو کچھ ملا ہے اس پر ہم خدا تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ تین شگر تُم لا زیر نكُمْ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تم پر اور احسان کروں گا۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے اس پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور پھر یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم محسوس کریں کہ ہم نے ابھی اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جس کے حصول کے بغیر ہم نہ تو جرأت اور دلیری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور نہ کسی ملک کو چیلنج کر سکتے ہیں۔مثلاً اس زمانہ میں روس کی طاقت ہے، امریکہ کی طاقت ہے، برطانیہ کی طاقت ہے، پھر ان سے اُتر کر فرانس، اٹلی اور جرمنی کی طاقتیں ہیں۔نو آبادیات کے لحاظ سے آسٹریلیا اور کینیڈا کی طاقتیں ہیں۔جاپان بھی سر اُٹھا رہا ہے مگر کیا روپیہ جنگی سامان ، تجارت اور صنعت وغیرہ کے لحاظ سے کوئی اسلامی ملک یا اسلامی ممالک کا جتھہ ہے جسے ہم ان طاقتوں کے مقابلہ میں پیش کر سکیں۔کیا کوئی ایسا اسلامی ملک ہے جو یہ کہہ سکے کہ اگر ان ممالک کے پاس اتنی تو ہیں ہیں تو میرے پاس بھی اتنی تو ہیں ہیں، اگر ان کے پاس گولہ بارود ہے تو میرے پاس بھی گولہ بارود ہے، اگر ان کے پاس جنگی سامان ہے تو میرے پاس بھی جنگی سامان ہے، اگر ان کے پاس کارخانے ہیں تو میرے پاس بھی کارخانے ہیں ، اگر ان کی تجارت وسیع ہے تو میری تجارت بھی وسیع ہے۔مسلمانوں کی طاقت ان ممالک کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔پس یہ تو صاف بات ہے کہ اتحاد المسلمین کے موضوع پر تقریر کرنے کے لئے اس بات کے متعلق سوچنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد