انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 632

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۳۲ اتحاد المسلمین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہندوستان میں پیدا ہوئے اور نہ ہندوستان تشریف لائے ، اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور صحابہ بھی نہ سندھ میں پیدا ہوئے اور نہ یہاں تشریف لائے۔اس میں کوئی مجبہ نہیں کہ بعض صحابہ کے متعلق پتہ لگتا ہے کہ وہ یہاں آئے اور یہیں فوت ہوئے لیکن یہ تاریخی بات نہیں بہر حال اگر ایک یا دو صحابہ کا یہاں آ جانا ثابت بھی ہو تو یہ ایک استثنائی امر ہے۔پھر یہ بات بھی ثابت نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سندھ کے لوگ مکہ یامد ینہ گئے ہوں ، آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوں اور انہوں نے آپ کے ارشادات سے استفادہ کیا ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں اسلام آیا اور اکثریت نے اسے قبول کیا۔یہ چیز بتاتی ہے کہ اسلام پر کبھی روشن زمانہ بھی آیا ہے ، اس پر فتوحات کا زمانہ بھی آیا ہے ، وہ عزت سے یہاں آیا اور پھر سندھ سے نکل کر یو پی سی پی، بہار اور بنگال تک پھیل گیا اور پھر آگے چین تک نکل گیا۔پھر شمالی سرحدوں سے نکل کر بخارا اور چینی ترکستان اور کاکیشیا سے نکل کر پولینڈ تک چلا گیا، پولینڈ میں آج تک مسلمانوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔غرض اسلام جو دُنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہے اس کی عظمت کا ہر شخص کو علم ہے مگر آج اس عظمت کے آثار کہاں پائے جاتے ہیں؟ خدا خدا کر کے یہ ہوا کہ بعض اسلامی علاقوں نے آزادی کا سانس لیا ہے لیکن یہ آزادی سیاسی طور پر ہے ورنہ جہاں تک عظمت کا سوال ہے ابھی تمام اسلامی علاقے اس سے بہت دُور ہیں۔مثلاً بڑائی اور طاقت کے یہ معنے ہیں کہ اگر کوئی ملک کسی علاقہ پر حملہ کرے تو اُس علاقہ کے رہنے والے یہ یقین اور وثوق رکھیں کہ کیا بلحاظ ظاہری سامان کے اور کیا بلحاظ اخلاقی طاقت کے وہ اس قابل ہیں کہ دشمن کا منہ توڑ جواب دے سکیں اور نہ صرف دشمن کو اپنی سرحدات سے باہر نکال دیں بلکہ خود اس کی سرحدوں میں جا کر اسے مزا چکھا سکیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا اسلامی ملک نہیں جو دشمن کی سرحدوں میں جا کر اُسے مزا چکھانا تو الگ رہا کسی دوسرے ملک کی مدد کے بغیر اپنا دفاع بھی کر سکے۔ہر اسلامی ملک سہارے کے لئے امریکہ، برطانیہ یا کسی اور یورپین طاقت سے مدد مانگنے پر مجبور ہوتا ہے۔