انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 634

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۳۴ اتحاد المسلمین کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ طاقتور بن جائیں اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں۔اتحاد عربی لفظ ہے اور وحدت سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں پجہتی اختیار کر لینا۔یہ لفظ بتاتا ہے کہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ بہت سی چیزیں ہیں اور اُنہوں نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو کھو کر اجتماعیت اختیار کریں گی۔عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ مطالب کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ ایک لفظ کے اندر سارا فلسفہ بیان کر دیا جاتا ہے۔اتحاد نے اُردو زبان میں آ کر اپنے معنے کھو دئے ہیں لیکن عربی زبان میں جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے فلسفہ کو جانے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ بولنے والا کئی باتیں تسلیم کرتا ہے۔وہ تسلیم کرتا ہے کہ اسلام میں کئی گروہ ہیں اور وہ الگ الگ ہیں۔پھر وہ گروہ ارادہ اور عزم کے ساتھ بعض مقاصد کے لئے ایک ہو جاتے ہیں۔پس جب ایک شخص یہ کہے گا کہ مسلمانوں میں اتحاد ہو تو وہ تسلیم کرے گا کہ مسلمانوں کے حکومتوں اور افراد کے لحاظ سے مختلف اجزاء ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان اجزاء اور افراد کو اکٹھا کریں گے۔گویا اتحاد کے معنی ہیں تمدن کی بنیا د رکھنا۔یہی معنے مدنیت کے ہیں۔مدنیت کے معنے ہیں ایک جگہ رہنا اور بعض قیود اور پابندیوں کو اپنے اوپر عائد کر لینا۔اگر ہم کہیں انسان مدنی الطبع ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ گتوں ، سوروں اور بلیوں میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے انفرادی حقوق کو چھوڑ کر قومی حقوق کو ترجیح دیں لیکن انسان کے اندر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ بعض اوقات قومی حقوق کی خاطر انفرادی حقوق کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہی چیز اتحاد ہوتی ہے۔اتحاد ساری باتوں میں ناممکن ہے۔اتحاد صرف بعض باتوں میں ہوسکتا ہے اور بعض باتوں میں نہیں ہو سکتا۔نہ ہر بات میں اتحاد ہوسکتا ہے اور نہ ہر بات میں اتحاد ہونا مفید ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں میں یہ سوال پیش کرتا ہوں کہ کیا ہر جہت سے ایک ہو جانا ممکن ہے؟ کیا تمام اختلافات مٹائے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے بعد ہی ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم دعوی کریں کہ ہم آپس میں اتحاد پیدا کر سکتے ہیں۔پھر اگر ہم اتحاد پیدا کر سکتے ہیں تو کن اصول کے لحاظ سے پیدا کر سکتے ہیں اور کن اصول کے لحاظ سے نہیں کر سکتے۔