انوارالعلوم (جلد 22) — Page 617
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۷ سیر روحانی (۶) ہے کہ کوئی خوبی نہیں جو آپ میں نہ پائی جاتی ہو اور کوئی کمال نہیں جو آپ کے اندر نہ دکھائی دیتا ہو اور پھر ہر کمال اپنے اپنے دائرہ میں ایسی امتیازی شان کے ساتھ آپ کے اندر پایا جاتا ہے کہ دوست تو الگ رہے ، دشمن بھی آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں اور وہ آر کے اخلاق کی بلندی اور آپ کے کردار کی پاکیزگی کے معترف ہیں۔سرولیم میور کا اقرار کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ سر ولیم میور اسلام کا ایک شدید ترین دشمن ہے مگر اس نے بھی جب علیہ وسلم نے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے اس انقلاب پر نگاہ دوڑائی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی سرزمین میں پیدا کیا تو وہ بھی یہ الفاظ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ: یہ کہنا کہ اسلام کی صورت عرب کے حالات کا ایک لازمی نتیجہ تھی ایسا ہی ہے جیسا کہ یہ کہنا کہ ریشم کے بار یک تاگوں میں سے آپ ہی ایک عالیشان کپڑا تیا ر ہو گیا ہے یا یہ کہنا کہ جنگل کی ہے تراشی لکڑیوں سے ایک شاندار جہاز تیار ہو گیا ہے یا پھر یہ کہنا کہ گھر دری چٹان کے پتھروں میں سے ایک خوبصورت محل تیار ہو گیا ہے اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ابتدائی عقائد پر پختہ رہتے ہوئے عیسائیت اور یہودیت کی سچائی کی راہنمائی کو قبول کرتے چلے جاتے اور اپنے متبعین کو اِن دونوں مذاہب کی سادہ تعلیم پر کار بند رہنے کا حکم دیتے تو دنیا میں شاید ایک ولی محمد یا ممکن ہے کہ ایک شہید محمد پیدا ہو جاتا جو عرب کے گر جا کی بنیا د رکھنے والا قرار پاتا، لیکن جہاں تک انسانی عقل کام دیتی ہے کہا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں آپ کی تعلیم عرب کے دل کی گہرائیوں میں تلاطم پیدا نہ کر سکتی اور سارا عرب تو الگ رہا اس کا کوئی معقول حصہ بھی آپ کے دین میں داخل نہ ہوتا ، لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپ نے اپنے انتہائی کمال کے ساتھ ایک ایسی گل ایجاد کی