انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 618

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۸ سیر روحانی (۶) کہ جسکی موقع کے مناسب ڈھل جانیوالی قوت کے ساتھ آپ نے آہستہ آہستہ عرب قوم کی پراگندہ اور شکستہ چٹانوں کو ایک متناسب محل کی شکل میں بدل دیا اور ایک ایسی قوم بنا دیا جس کے خون میں زندگی اور طاقت کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ایک عیسائی کو وہ عیسائی نظر آتے تھے، ایک یہودی کی نگاہ میں وہ ایک یہودی تھے ، ایک مکہ کے بُت پرست کی آنکھ میں وہ کعبہ کے اصلاح یافتہ عبادت گزار تھے اور اس طرح ایک لاثانی ہنر اور ایک بے مثال دماغی قابلیت کے ساتھ انہوں نے سارے عرب کو خواہ کوئی بُت پرست تھا ، یہودی تھا کہ عیسائی تھا مجبور کر دیا کہ وہ ان کے قدموں کے پیچھے ایک سچے مطیع کے طور پر جس کے دل سے ہر قسم کی مخالفت کا خیال نکل چکا ہو چل پڑے۔یہ فعل اُس صناع کا ہوتا ہے جو اپنا مصالح آپ تیار کرتا ہے اور یہاں اس مصالح کی مثال چسپاں نہیں ہوتی جو کہ آپ ہی آپ بن جاتا ہے اور اس مصالح کے ساتھ تو اس کو بالکل ہی کوئی مشابہت نہیں جو اپنے صناع کو خود تیا ر کرتا ہے یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذات تھی جس نے اسلام بنایا یہ اسلام نہیں تھا اور نہ کوئی اور پہلے سے موجود اسلامی روح تھی جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بنایا۔‘۱۲۹ میور چونکہ اسلام کا شدید مخالف تھا اس لئے گو اُس نے یہ کہا کہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس صداقت کا بھی اُس نے کھلے بندوں اقرار کیا کہ دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہیں کیا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے اور یہ کام یقیناً خدا تعالیٰ کے فرستادوں کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ مقام محمود عطا کیا کہ آپ کا حسن کبھی دشمن کی آنکھوں میں بھی عرفان کی ایک جھلک پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی آپ کی ستائش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔