انوارالعلوم (جلد 22) — Page 616
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۶ سیر روحانی (۶) مَقَامًا مَّحْمُودا یعنی اے محمد رسول اللہ ! آج لوگ تیرا حسن دیکھنے سے قاصر ہیں وہ تجھے ایسی گٹھلی سمجھتے ہیں جو پاؤں تلے روندی جائیگی ، ایک ایسا بیج خیال کرتے ہیں جسے پرندے اُچک کر لے جائیں گے مگر ہم نے تیرے اندر ایسی خوبیاں ودیعت کر دی ہیں کہ جوں جوں ان خوبیوں کا ظہور ہوتا جائے گا تیری حمد کے ترانے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہوتے جائیں گئے اور مذقم کہنے والے تجھ پر درود اور سلام بھیجیں گے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے وہ تمام مسائل جن پر یورپ کے مدبرین اور بڑے بڑے فلا سفر بھی اعتراض کیا کرتے تھے آج دنیا اُن کی معقولیت کی قائل ہو رہی ہے اور وہ تسلیم کرتی ہے کہ دنیا کی مشکلات کا صحیح حل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ تعلیم میں ہی ہے۔اسلامی تعلیم کی برتری کا اعتراف ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب تو حید کے اعلان پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو انتہائی مصائب کا نشانہ بنایا گیا مگر آج ساری دنیا خدائے واحد کے آستانہ پر سر جھکائے ہوئے ہے بلکہ وہ لوگ جو مذہباً تثلیث کے قائل ہیں یا مذہباً سینکڑوں دیوتاؤں کو تسلیم کرتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا تو ایک ہی ہے باقی سب اُس کے ظہور ہیں۔پھر شراب کو اچھا سمجھا جاتا تھا، اسلام کے مسئلہ طلاق پر اعتراض کیا جاتا تھا ، تعدد ازدواج کو عورتوں کے لئے شدید ظلم قرار دیا جا تا تھا، سُو دکو تجارت کا ایک لازمی جزو سمجھتے ہوئے بڑا مفید خیال کیا جاتا تھا، پردہ کو بُر اقرار دیا جاتا تھا، ورثہ کے مسائل کو درست نہیں سمجھا جاتا تھا مگر آج دنیا ٹھوکریں کھا کر اس تعلیم کی طرف آ رہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی کیونکہ خدا نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ وہ آپ کو مقام محمود عطا کر یگا اور دنیا آپ کے اخلاق اور آپ کی تعلیم کی برتری کی وجہ سے اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ کی تعریف کریگی۔دشمنوں کے منہ سے محمد رسول اللہ حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام فضائلِ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سے اس طرح متصف کر کے مبعوث فرمایا