انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 384

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸۴ خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں اور چندہ کو منظم کریں چلے گئے ہیں تو ان دنوں کا نام کریسمس نہ رکھو نیشنل ہالیڈیNational Holiday) رکھ لو تا قوم کو اجتماع وغیرہ کا موقع مل سکے۔انگریزوں نے اپنے رواج کے مطابق سال میں بعض ایسے دن رکھ لئے تھے جن میں وہ اکٹھے ہوتے تھے اور باتیں کرتے تھے۔اُن کے جانے کے بعد اب کوئی بھی قومی تہوار کے دن نہیں جن میں اجتماع وغیرہ ہو سکے۔یورپ میں کرسمس اور ایسٹر کے نام سے سال میں بعض چھٹیاں آجاتی ہیں اسی طرح سال میں اور دن بھی مقرر ہیں جن میں قوم کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنے معاملات پر غور کرتے ہیں۔ہمیں بھی ایسے دن بنانے پڑیں گے اور جب ہمیں ایسے دن بنانے پڑیں گے تو کیوں نہ ہم ابھی سے ایسے دن بنا لیں۔اگر محرم دس دن قبل ہوا تو یہ اجتماع نہیں ہو سکے گا۔اس سال حج میں جو آج سے کچھ دن قبل ہو ا تو کسی وجہ سے سات ہزار حاجی مر گیا ہے اگر ہم ابھی سے کوئی تجویز نہیں کریں گے تو ہم قومی جانیں ضائع کرنے کا موجب ہوں گے۔جب آئندہ ایسے دن نظر آ رہے ہیں تو کیوں نہ ہم ابھی فیصلہ کر لیں۔آخر ہم میں سے کتنے لوگ ملازم ہیں جو چھٹیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اجتماع سے رہ جائیں گے۔کراچی میں کوئی پچاس ہزار ملازم ہیں جن میں قریباً ملاز مین احمدی ہوں گے اور ان میں سے اجتماع کے موقع پر ربوہ آنے والے چھ سات ہوں گے۔کیا ان چھ سات افراد کو اجتماع کے لئے چھٹیاں نہیں مل سکیں گی؟ سال میں ۲۰ دن کی چھٹیوں کا گورنمنٹ نے بھی حق دیا ہوا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے چھ سات افراد چھٹی حاصل کرنا چاہیں اور اُنہیں چھٹی نہ ملے۔یہ ہو سکتا ہے کہ ضرورت کے وقت حکومت چھٹیاں روک لے لیکن یہ دقت اُس وقت ہوگی جب لوگ کثرت سے یہاں آئیں گے۔اور جب لوگ کثرت سے آئیں گے نہیں تو حکومت کا دو چار پانچ دس افراد کو رخصت دینے میں کیا حرج ہے۔پھر تمہارا نہیں دن کی چھٹی کا حق بھی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اجتماع کے لئے کوئی دن مقرر کر لیں اور ان دنوں میں چھٹیاں حاصل کر کے لوگ یہاں آجایا کریں۔اسی طرح اور جگہوں کو دیکھ لو۔پچھلے سال کوئٹہ سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔اب پتہ لگا ہے کہ اس سال دو نمائندے کوئٹہ سے آئے ہیں۔اب کیا کوئٹہ شہر سے دو آدمیوں کو رخصت نہیں مل سکتی۔آخر