انوارالعلوم (جلد 22) — Page 385
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸۵ خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں اور چندہ کو منظم کریں ان کی رخصت میں حکومت کیوں روک ڈالے گی۔یہی حال لاہور کا ہے۔لاہور کی دس لاکھ کی آبادی ہے اور ان میں سے پچاس ہزار کے قریب ملازم ہوں گے جن میں سے بہت تھوڑی تعداد ہماری ہے۔اب اگر لاہور سے آٹھ دس آدمی اجتماع پر آجائیں تو کیا وجہ ہے کہ اُن کی رخصت کا انتظام نہ ہو۔اگر یہاں آنے والوں میں ملازمین کی کثرت ہوتی یا ہم سب ملازموں کو یہاں بلاتے تو حکومت کے لئے مشکل پیدا ہو سکتی تھی لیکن جب یہاں آنے والوں میں ملازمین کی کثرت بھی نہیں اور نہ ہم سب ملازمین کو یہاں بلاتے ہیں صرف چند نمائندے یہاں آتے ہیں اور اُن کی نسبت اتنی بھی نہیں ہوتی جتنی آئے میں نمک کی ہوتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔پھر کیوں نہ خدام اس موقع پر چھٹیاں لے کر آئیں۔یہ کیا بات ہے کہ چھٹیاں ملیں گی تو ہم آئیں گے ورنہ نہیں آئیں گے۔قوم کو سال میں دو تین دن کی ضرورت ہو اور وہ بھی لوگ پیش نہ کر سکیں۔میرے اپنے خیال میں چونکہ دسمبر میں جلسہ سالانہ بھی ہوتا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سالانہ اجتماع نومبر کے پہلے ہفتہ میں ہو۔لاکھوں کی جماعت ہے جن میں سے اس اجتماع پر صرف ۵۵۵ دوست باہر سے آئے ہیں اور ان میں سے اکثر ایسے ہوں گے جو جلسہ پر بھی آجائیں گے اس لئے اگر نومبر کے پہلے ہفتہ میں اجتماع رکھ لیا جائے تو اس کا جلسہ سالانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔خدا تعالیٰ انہیں توفیق دے گا تو وہ دوبارہ بھی آجائیں گے۔جو لوگ دور سے آئے ہیں وہ کوئی چالیس پچاس ہوں گے اور ان میں سے دس بارہ ایسے افراد ہوں گے جو دوبارہ جلسہ سالانہ پر نہ آ سکتے ہوں اس لئے ساری جماعت کے فائدہ کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔کل شوری میں اس کے متعلق فیصلہ کر لیا جائے آئندہ یہ اجتماع محرم کے دنوں میں نہیں ہو سکے گا کیونکہ محرم آئندہ اٹھارہ سال گرمی کے موسم میں آئے گا اور گرمی برداشت نہیں ہو سکے گی۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سال اجتماع میں نمائندگان کی حاضری بہت کمزور ہے۔گزشتہ سالوں میں رپورٹ میں مقابلہ کیا جاتا تھا کہ پچھلے سال اتنے خدام حاضر ہوئے تھے اور اب اتنے خدام آئے ہیں لیکن اس سال یہ حوالہ نہیں دیا گیا اور جب حوالہ