انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 383

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸۳ خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں اور چندہ کو منظم کریں برداشت کرنے کی مشق کریں گے اور یا سائنس میں ترقی کر کے ملک کے حالات کو اپنے مطابق بنالیں گے۔جیسے یورپ نے ترقی کر کے کمروں کو گرم کرنے کا طریق نکال لیا ہے اور ایسی ایجاد میں کر لی ہیں جن سے اُن کی زندگی آرام اور آسائش والی ہوگئی ہے اسی طرح ہمارے ملک کے لوگ ترقی کر کے ایسی ایجادیں کرلیں گے جن سے فضا ٹھنڈی ہو جائے گی اور تمام لوگ اس ملک میں اُسی طرح رہیں گے جس طرح وہ ایک درمیانی گرمی والے ملک میں رہتے ہیں یا جس طرح لوگ پہاڑوں پر رہتے ہیں۔غرض جب ملک ترقی کرے گا تو ہمارے ملک کے لوگ اپنے حالات کو گرمی کے مطابق بنا لیں گے یا ہمارے عالم اور سائنسدان گرمی کو ہمارے حالات کے مطابق بنا دیں گے۔بہر حال کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا کیونکہ جب کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو وہ ماحول کو اپنے مطابق بنا لیتی ہے یا اپنے آپ کو ماحول کے مطابق بنا لیا کرتی ہے لیکن جب تک یہ زمانہ نہیں آتا ہمیں یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ ہم اپنے اجتماع کو ٹھنڈے موسم میں کریں۔ہمارے ملک میں بد قسمتی سے یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ جو چیز انگریز نے پیدا کی ہے وہ تم نہ کرو اور یہ انگریزوں سے نفرت اور اُن کی بدسلوکیوں کی وجہ سے ہے۔انگریز اپنے ایک خاص دن کی یاد میں دسمبر کے مہینہ میں سات آٹھ دن کی چھٹیاں دیا کرتا تھا۔اب ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک نے وہ چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں حالانکہ ہر قوم کو اجتماع کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنی چاہئے اور اس کے لئے بہترین دن سردی کے ہیں۔محرم نے تو چکر کھانا ہے اس سال اکتوبر میں آیا ہے تو دوسرے سال اس کے کچھ دن ستمبر میں آجائیں گے۔تیسرے سال محرم ستمبر کے درمیان آجائے گا ، چوتھے سال ستمبر کے شروع میں آ جائے گا اور پانچویں سال اس کے کچھ دن اگست میں آجائیں گے، اِس طرح ۱۶، ۱۷ سال برابر بدلتا جائے گا۔گویا ۱۷ سال تک ہماری قوم کو ایسے معتدل دن نہیں ملیں گے جن میں لوگ اجتماع کر سکیں یا وہ مل کر باتیں کر سکیں۔انگریز کے زمانہ میں ہماری ساری ضروریات دسمبر کے مہینہ میں پوری ہو جاتی تھیں خواہ نام ان کا کرسمس رکھ لیں لیکن بہر حال وہ دن ایسے تھے کہ ہمارے اجتماع آرام سے گزر جاتے تھے۔اب اگر انگریز