انوارالعلوم (جلد 22) — Page 269
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۹ سیر روحانی (۵) انسان پر چھوڑ دیتا تو انہوں نے تو مر جانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا رزق اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اس نے دیکھا کہ جانور کی محنت زیادہ ہے اور تمہاری کم ہے، اُن کا پیٹ بڑا ہے اور تمہارا پیٹ چھوٹا ہے اس لئے اس نے تمہارے لئے تو دانے بنائے اور ان کے لئے بھوسہ بنا دیا۔دانے اس نے کم بنائے اور بھوسہ اس نے زیادہ بنایا کیونکہ عَلَى اللهِ رِزْقُهَا ان جانوروں کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم پھر بنی نوع انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الله الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ قَرّارًا کے رزق کی فراوانی وَالسَّمَاءِ بِنَاءِ وَ صَوَّرَكُمْ فَاحْسَنَ صُورَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ، ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبرَكَ اللهُ رب العلمین ۳۳ یعنی تمہارا خدا وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہر نے کی جگہ اور آسمان کو تمہارے لئے چھت کے طور پر بنایا ہے پھر اس نے تم کو کام کرنے کی قابلیت عطا فرمائی ہے فَاحْسَنَ صُوَرَكُمْ اور قابلیت بھی بہت اعلیٰ درجہ کی پیدا کی جب ہے۔اس جگہ صورت کے معنی ناک، کان ، منہ اور آنکھیں وغیرہ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو بنایا تو تمام اعضاء اُس نے اُسی وقت بنا دیئے تھے۔اس جگہ صورت سے مراد وہ قو تیں اور قابلیتیں ہیں جو بنی نوع انسان میں رکھی گئیں اور جن سے وہ دنیا میں بہت بڑی ترقیات حاصل کرتا ہے۔و رزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ، پھر اُس نے نہایت اعلیٰ درجہ کی چیزیں جو تمہارے جسم کے مناسب حال ہیں تمہارے لئے پیدا کیں۔مثلاً زبان خواہش رکھتی ہے کہ وہ میٹھا کھائے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے میٹھا پیدا کر دیا یا زبان چاہتی ہے کہ اسے نمک مرچ اور کباب ملیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے نمک مرچ اور کباب پیدا کر دئیے۔یا مثلاً زبان چاہتی ہے کہ اسے کھانے کے لئے چاول ملیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے چاول پیدا کر دیئے۔غرض جو بھی خواہشیں اور قو تیں انسان کے اندر پیدا کی گئی ہیں ویسی ہی چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا کر دی ہیں اور یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کیونکہ انسان میں جو