انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 268

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۸ سیر روحانی (۵) ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی گندم میں سے بیل کو ایک دانہ دینے کے لئے بھی تیار ہوتے ؟ وہ ساری کی ساری فصل اُٹھا کر اپنے گھر لے آتے اور بیل بھو کے مرجاتے مگر چونکہ بیلوں کا رزق خدا تعالیٰ کے ذمہ ہے اس لئے وہ دانے تھوڑے پیدا کرتا ہے اور بھوسہ زیادہ کی پیدا کرتا ہے، دانے تم اُٹھا کر اپنے گھر لے آتے ہو اور کھوسہ اپنے جانوروں کے لئے رکھ لیتے ہو۔یہ خدائی فعل ہے جو بتا رہا ہے کہ کس طرح اُس نے اپنی مخلوق کے رزق کا انتظام کیا ہے۔تم صرف دانے کھا سکتے ہو کھوسہ نہیں کھا سکتے اس لئے تم مجبور ہو کہ تم بھوسہ جانوروں کو دو۔اگر تمہارے اختیار میں ہوتا تو یا تو تمہارے جانور مر جاتے اور یا پھر تم انہیں دوسروں کی فصل میں چھوڑ دیتے۔سندھی مزارعین کی کیفیت میں ایک دفعہ سندھ گیا وہاں سلسلہ کی زمینیں ہیں اور کچھ میری بھی زمینیں ہیں۔ہم نے ان زمینوں پر مینیجر وغیرہ مقرر کئے ہوئے ہیں مگر مزارع اکثر سندھی ہیں۔وہاں کے عملہ نے میرے پاس شکایت کی کہ سندھی مزارع کھیتوں میں اپنے جانور چھوڑ دیتے ہیں اور فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے آپ انہیں نصیحت کیجئے کہ وہ ایسا نہ کریں۔چنانچہ میں نے ان کو بلوایا اور انہیں نصیحت کی کہ یہ جتنی جائیداد ہے سب انجمن کی ہے اور اس میں سے جتنی بھی آمد ہوتی ہے اس میں ایک پیسہ بھی کسی کو نفع کے طور پر نہیں ملتا بلکہ سب کا سب خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کیا جاتا ہے اس لئے اگر آپ لوگ بھی دیانتداری سے کام لیں اور اپنے جانوروں کو فصلیں کھانے نہ دیں تو اس ثواب میں برابر کے شریک ہو سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا آپ کو حاصل ہو سکتی ہے۔میں نے اس موضوع پر ان کے سامنے پندرہ ہیں منٹ تقریر کی اور میں نے دیکھا کہ ان سندھیوں کا لیڈر جو چانڈیہ قوم کے ساتھ تعلق رکھتا تھا سر ہلا تا چلا جاتا تھا جس سے میں نے یہ سمجھا کہ اس پر خوب اثر ہورہا ہے مگر پندرہ ہیں منٹ کے بعد جب میں تقریر ختم کر چکا تو ان سندھیوں کا سردار کہنے لگا سائیں ! جے ڈھور ڈنگر نے کھیتی نہیں کھانی تے پھر بھی پوچھنی ہی کیوں ہے؟ یعنی اگر جانوروں نے فصل نہیں کھانی تو پھر ہمیں فصل بونے کی ضرورت ہی کیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اگر ان کی روزی