انوارالعلوم (جلد 22) — Page 270
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۰ سیر روحانی (۵) طاقتیں رکھی گئی ہیں ویسی ہی چیزیں دنیا میں بنا دی گئی ہیں۔ان چیزوں کی پیدائش کو ہم اتفاقی نہیں کہہ سکتے یہ اتفاقی معاملہ تب ہوتا جب بنی نوع انسان کی کوئی ایسی طاقت ہوتی جس کا جواب قانونِ قدرت میں نہ ہوتا مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ ہر طاقت اور ہر قابلیت کا جواب خدا تعالیٰ کے قانون میں موجود ہے۔اگر تمہارا منہ نرم نرم اور پہلی سی چیز کو چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے چاول بنا دیئے ہیں۔اگر تمہارے دانت سخت چیز کے چبانے کی طاقت رکھتے ہیں تو اس نے ہڈیاں اور دانے وغیرہ بنا دیئے ہیں۔اگر تمہارا معدہ لذیذ اور شیر میں چیزوں کا محتاج ہے تو اس نے تمہارے لئے شکر پیدا کر دی ہے۔بچپن میں دانت نہیں ہوتے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کر دیتا ہے غرض تمام چیز میں جن کی عمر بھر کسی وقت بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے ان سب کا کائناتِ عالم میں موجود ہونا دلالت کرتا ہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جس نے پالا رادہ اور حکمت کے ماتحت اس دنیا کو پیدا کیا ہے۔پھر فرماتا ہے هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ بنی نوع انسان پر عظیم الشان احسان المُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى ، يُسَبِّحُ له ما في السموات والأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۳۴ فرماتا ہے وہ خدا ہی ہے جو (۱) پیدا کرتا ہے (۲) پھر وہ تراشتا ہے یعنی نقائص کو دور کرتا ہے (۳) پھر وہ تصویر دیتا ہے یعنی کام کے مناسب حال قو تیں بخشتا ہے (۴) له الاسماء الحسنی ، اِس کے علاوہ وہ اور بھی بہت سے نیک تغیرات پیدا کرتا ہے۔مثلاً طاقتوں کے مطابق با ہر سامان پیدا کرتا ہے جس کی طرف اُس کی صفتِ رحمن اشارہ کرتی ہے۔اور پھر کام کرنے پر اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کے سامان مہیا کرتا ہے جس کی طرف اس کی صفتِ رحیم اشارہ کرتی ہے۔مثلاً ہر کام دنیا میں ایک اچھا یا بُرا اثر چھوڑتا ہے وہ و ہیں ختم نہیں ہو جاتا۔تم ہاتھ ہلاتے ہو تو ہاتھ ہلانے سے تمہارا کام ختم نہیں ہو جا تا بلکہ اس سے دوسری دفعہ تمہارے اندر ہاتھ ہلانے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے یا مثلاً بچہ کو دیکھ لو وہ اپنے ہاتھ پاؤں ہلاتا ہے اور آخر کچھ عرصہ کے بعد اُس کے پاؤں میں کھڑا ہونے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔اُس کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا کسی ایک حرکت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ