انوارالعلوم (جلد 22) — Page 366
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۶ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے قربانی کرتے وقت سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے یہ قربانی کی تو فلاں خرچ کہاں سے پورا کریں گے۔جب تمہارا بچہ بیمار ہو جاتا ہے اُسے ٹائیفا نڈ یا ہیضہ ہو جاتا ہے تو کیا تمہاری اُس وقت کی قربانی اور دین پر حملہ کے وقت کی تمہاری قربانیاں ایک سی ہیں؟ اگر دونوں مواقع پر تمہاری قربانیاں ایک سی ہیں تب تو کوئی بات ہے لیکن تم اگر اپنے بچہ کی بیماری کے وقت تو اپنا لحاف اور پگڑی بھی بیچنے پر تیار ہو جاتے ہو اور اُس سے علاج کے اخراجات پورے کرتے ہو اور جب دین کی خاطر قربانی کرنے کا وقت آتا ہے تو تم بہانے بنانے لگ جاتے ہو تو تم کیسے مومن ہو۔تمہارا یہ کہہ دینا کہ تم مومن ہو تمہیں مومن نہیں بنا سکتا اور تمہاری یہ دلیل درست نہیں ہو سکتی کہ تم اپنے آپ کو منافق خیال نہیں کرتے بلکہ مومن خیال کرتے ہو۔تم مومن ہو یا منافق اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ نے کرنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں نہیں فرمایا کہ منافق یہ کہتا ہے کہ میں منافق ہوں مومن نہیں ہوں۔وہ کہتا یہی ہے کہ میں مومن ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی یہ علامت ہے کہ وہ موقع پر جھوٹ بولتا ہے۔غصہ آئے تو گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے جھوٹا کرتا ہے اور جب اُس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اُس میں خیانت کرتا ہے۔ہے اب دیکھ لو ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ منافق اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہے وہ اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے لیکن موقع پر جھوٹ بولتا ہے۔وہ اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے لیکن غصہ آنے پر گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔اور وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا ( جیسے کہ کمزور وعدہ کرنے والے تحریک کے دفتر سے معاملہ کر رہے ہیں ) اور جب اُس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اُس میں خیانت کرتا ہے۔یہ وہ فیصلہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کے متعلق فرمایا ہے اب جو شخص اس کے خلاف منافق کی تعریف یہ کرتا ہے کہ منافق وہ ہے جو اپنے آپ کو منافق کہتا ہے یا سمجھتا ہے اُس کی مثال در حقیقت اُس پٹھان کی سی ہے جس نے فقہ کی کتاب ” قدوری یا کنز“ پڑھی (پٹھان فقہ بہت پڑھتے ہیں ) اور فقہ میں پڑھا کہ حرکت قلیلہ بھی نماز کو توڑ دیتی ہے۔پھر اُس نے ایک دن حدیث میں پڑھا کہ