انوارالعلوم (جلد 22) — Page 367
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۷ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روتے ہوئے بچہ کو گود میں اٹھا لیا تو کہنے لگا۔خو! محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔کسی دوسرے شخص نے کہا نماز تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے پھر تم کون ہو یہ کہنے والے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حرکت سے نماز ٹوٹ گئی۔پس فیصلہ تو خدا اور اُس کے رسول نے کرنا ہے تم خود اپنے آپ کو مومن سمجھ لو تو یہ درست نہیں ہو سکتا۔مومن اور منافق میں یہ فرق ہے کہ مومن ہر ضرورت کے وقت قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اُس کی نیت عمل سے بڑھتی جاتی ہے۔یعنی وہ قربانی کرتا ہے لیکن اُس کا نفس کہتا ہے کہ یہ قربانی تھوڑی ہے میں اور قربانی کروں۔اور پھر وہ ان بوجھوں کو برداشت کرتا ہے جو اس کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔جو وعدہ کرتا ہے اسے ضرور پورا کرتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سُنایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد منشی اروڑے خان صاحب ایک دفعہ قادیان آئے۔آپ پہلے منشی تھے بعد میں ترقی کر کے تحصیلدار ہو گئے تھے۔اُس زمانہ میں منشی کی تنخواہ سات آٹھ روپیہ ہوتی تھی۔حضر مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے وہ ہر اتوار قادیان آتے۔منشی صاحب کپور تھلے کے تھے اور اُن کا گاؤں قادیان سے چھپیں چھبیس میل کے فاصلے پر تھا۔وہ پیدل چل پڑتے اور رستہ میں کہیں دو پیسے یا آنہ دے کرتا نگہ پر بیٹھ جاتے اور پھر پیدل چل پڑتے۔آٹھ دس روپے تنخواہ کے لحاظ سے جو وہ جمع کر سکتے جمع کرتے اور جب قادیان آتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بطور نذرانہ پیش کر دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے کچھ دیر قبل یا وفات کے کچھ دیر بعد وہ تحصیلدار ہو گئے اور اُن کی تنخواہ بھی بڑھ گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے چھ سات ماہ بعد وہ قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفہ اسیح الاوّل سے کہنے لگے مجھے ایک رقعہ لکھ دیں میں نے میاں صاحب سے ملنا ہے۔اُس وقت خلیفہ تو آپ ہی تھے لیکن آپ نے پھر بھی ایک رقعہ بطور سفارش مجھے لکھ دیا اور وہ رقعہ اُنہوں نے اندر بھیجا اور میں باہر آ گیا۔اُنہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مصافحہ تک اُنہوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔اُن