انوارالعلوم (جلد 22) — Page 278
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۸ سیر روحانی (۵) خدا اور اُس کے بندے کے دیوانِ عام کی تیسری غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنی فریاد بادشاہ تک براہِ راست پہنچا سکیں۔اس درمیان کوئی واسطہ نہیں نقطہ نگاہ سے بھی جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے دیوانِ عام کی اس غرض کو پورا کیا۔تمام مذاہب کہتے ہیں کہ خدا اور اس کے بندے میں کوئی نہ کوئی واسطہ ہونا چاہئے مگر اسلام کہتا ہے کہ خدا اور اس کے بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔نبی کتنی بڑی شان رکھنے والا وجود ہوتا ہے مگر خواہ کوئی بڑے سے بڑا نبی ہو پھر بھی وہ خدا اور بندوں کے درمیان واسطہ نہیں بن سکتا۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ يَارَسُولَ الله ! احسان کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو نماز اس یقین اور وثوق کے ساتھ پڑھے کہ گویا تو خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ مقام تمہیں حاصل نہیں تو تمہیں کم سے کم یہ یقین رکھنا چاہئے کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے اگے اور جب کسی بندے کو خدا دیکھ رہا ہو تو اُس کی فریاد کے پہنچنے میں کوئی روک ہی کیا ہو سکتی ہے۔غرض تمام مذاہب ایک واسطہ کے قائل ہیں مگر اسلام اس چیز کا قائل نہیں۔چنانچہ دیکھ لو وہ ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر تعریف کرتا ہے کہ فرماتا ہے یہ قیامت تک کے لئے گورنر جنرل مقرر کئے گئے ہیں مگر دوسری طرف جہاں واسطے کا سوال آتا ہے وہاں فرماتا ہے قُل إِنَّمَا أَنَا بَشَر مَثْلُكُمْ " یعنی تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تو تمہاری طرح ایک انسان ہوں۔بشر ہونے کے لحاظ سے مجھے میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔پس اسلام کے نزدیک کسی کو خدا اور بندہ کے درمیان کھڑے ہونے کا حق حاصل نہیں۔الہی دربار میں مظلوموں اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے فریاد سنے کا طریق کیا مقرر کیا ہوا ہے وہ فرماتا ہے آمن يُجِيبُ کی فریاد سننے کا طریق المضطر إذا دَعَاهُ وَيَخيف النور عيني المُضْطَرَّ السُّوءِ ٢٣ یعنی ان سے پوچھو کہ کیا کوئی ہمارے جیسا در بار منعقد کرنے والا دنیا میں کوئی بادشاہ