انوارالعلوم (جلد 22) — Page 277
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۷ سیر روحانی (۵) سے زیادہ چالیس پچاس ہزار آدمی دیدار کر سکتے ہیں اور چالیس پچاس ہزار آدمی جو ان کو دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا وہ بھی ایسا ہوتا تھا جو اچھا تندرست اور مضبوط ہو ورنہ اس دیدار عام کے باوجود بیمار وہاں نہیں جا سکتا تھا۔کو لا، لنگڑا وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔پولیس والا جو کسی چوراہے پر آن ڈیوٹی ہوتا تھا وہ وہاں نہیں جا سکتا تھا اور پھر اگر شہر والے وہاں چلے بھی جاتے تو دو دو چار چار سو میل کے علاقہ میں رہنے والے لوگ وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تمہاری اس خواہش کو دیکھا اور ہم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم تمہاری اس خواہش کو ضرور پورا کریں گے چنانچہ گو تمہاری آنکھیں خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتیں مگر خدا خود چل کر تمہاری آنکھوں کے سامنے آئے گا۔اور وہ کیوں ایسا کرے گا ؟ اس لئے کہ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ لطیف کے ایک معنی باریک اور پوشیدہ ہونے کے اور الْبَرُّ بِعِبَادِهِ الْمُحْسِنُ إِلى خُلْقِهِ " کے بھی ہیں یعنی اپنے بندوں سے بہت نیکی کرنے والا اور ان کی ضرورتوں کے مطابق سامان مہیا کرنے والا۔فرماتا ہے ہم کیوں تمہارے پاس چل کر آئیں گے؟ اس لئے آئیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں اور ہم اپنے بندوں کے ساتھ نیکی کرنے والے ہیں اور اس لئے ہماری صفت یہ ہے کہ ہم اپنے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں اور ان پر اپنے احسانات کی بارش نازل کرتے ہیں اور پھر اس لئے ہم خود چل کر تمہارے پاس آئیں گے کہ ہم خبیر ہیں یعنی ہم اس بات سے واقف ہیں کہ تم خود اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے۔یہ وہ دیدار ہے جس کے مقابلہ میں دُنیوی بادشاہوں کے دیدار کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتے۔پھر عملاً صفات الہیہ کو جس طرح قرآن کریم نے ظاہر کیا ہے صفات الہیہ پر بحث دنیا کی کسی اور کتاب نے ظاہر نہیں کیا، اس نے صفات الہیہ پر ایسی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ کو اس نے انسان کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔مسئلہ تو حید کو ہی لے لو اس سبق کو اس نے اس طرح ننگا کر کے رکھ دیا ہے کہ آج ساری دنیا اس بات پر مجبور ہے کہ خواہ وہ عملاً شرک ہی کا ارتکاب کر رہی ہو پھر بھی زبان سے وہ یہی کہے کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔