انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 279

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۹ سیر روحانی (۵) حکومتیں دربارِ عام منعقد کرتی ہیں تو بادشاہ اعلان کرتے ہیں کہ جس شخص پر کوئی ظلم ہوا ہو وہ آئے اور ہمارے دربار میں فریاد کرے مگر دنیا میں لوگ اگر فریاد کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے افسران سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے خلاف شکایت کی تو ہم تمہاری زبان گڑی سے کھینچ لیں گے۔وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے فریاد کی تو بعد میں وہی افسر مجھے اور رنگ میں مصیبتوں میں مبتلاء کر دیں گے۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ رات کی تاریکی سایہ ڈالے ہوئے ہے ، مصیبت زدہ بندہ اپنے لحاف میں پڑا آہیں بھر رہا ہے، دنیا کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے یا کیا کہہ رہا ہے۔کوئی افسر اسے دھمکا نہیں سکتا، کوئی افسر اسے فریاد سے روک نہیں سکتا وہ لحاف میں لیٹے لیٹے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنی آواز بلند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا! فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے تو میری طرف سے آپ اس کا بدلہ لے۔ظالم نہیں جانتا کہ اس کے خلاف بادشاہ تک شکایت پہنچ چکی ہے ، وہ نہ سنتا ہے نہ دیکھتا نہ اُس کے دل پر کوئی خیال گزرتا ہے مگر مظلوم کی فریا دخدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیتی ہے۔وہ فرماتا ہے آمَن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوء جب وہ اکیلے خدا تعالیٰ کے حضور مضطر ہو کر فریاد کرتا ہے۔جب کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا اُس وقت کون اس کی مدد کے لئے آتا ہے؟ دنیا غافل ہوتی ہے مگر خدا اپنے بندے کی مدد سے غافل نہیں ہوتا وہ خود آتا ہے اور کہتا ہے اے میرے بندے! میں تیری مدد کو آ گیا ہوں اور پھر اس سے ایسی محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے کہ اُس کا ہر دکھ دُور ہو جاتا ہے۔خدا تعالی کی عطا کا بے مثال نمونہ دیوان عام کی چوتھی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ بادشاہ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں مگر ظاہر ہے کہ ہر شخص نہ در بار عام میں پہنچ سکتا ہے اور نہ بادشاہ اتنا وقت دے سکتا ہے۔دس بیس کروڑ رعایا ہو تو بادشاہ کے پاس اتنا وقت کہاں ہوسکتا ہے کہ وہ ہر ایک کے مطالبہ کو سُنے اور اس کے بارہ میں ضروری کارروائی کرے۔پھر اگر مطالبات پیش کرنے کا موقع بھی ملے تو جو کچھ دل میں ہوتا ہے وہ سب کچھ انسان مانگ نہیں سکتا۔اول تو وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں افسر خفا نہ ہو جائے اور پھر انہیں یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ اگر