انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 58

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء جس کی تمہارا امام تم سے امید کرتا ہے اور جب تک تم ایسا نہیں کرو گے تم میری نظروں میں عزت حاصل نہیں کر سکتے۔اور اگر تم میرے معتقد ہو اور جو بات میں کہتا ہوں اس پر یقین رکھتے ہو تو میرے نقطہ نگاہ سے تم خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی اچھے نہیں سمجھے جا سکتے۔اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتے ہوئے دعا کرتا ہوں کہ جو دوست اس جلسہ پر آئے ہیں اور اُنہوں نے میری باتوں کو سنا ہے انہیں خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ وہ واپس جا کر اپنی جماعتوں میں میرے خیالات کو پھیلا دیں اور اپنی اپنی جماعتوں میں تحریک کریں کہ وہ بُزدلی کو کی دور کریں۔بُزدلی اور ستی سے صرف دنیوی نقصان ہی نہیں پہنچتا بلکہ یہ چیز دین کو بھی کمزور کری دیتی ہے اور میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اب کسی صورت میں بھی بُزدلی اور ستی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔جو شخص بہادر ہو گا۔جو شخص ضرورت کے وقت اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے تیار رہے گا اور جو شخص قربانیاں پیش کر کے قوم اور وطن کی محبت کو ثابت کر دے گا وہی ہم میں رہنے کا مستحق ہوگا اور جو دوسرے لوگ ہونگے ہم آہستہ آہستہ ان کی اصلاح کی کوشش کریں گے لیکن اگر ان کی اصلاح نہ ہوسکی تو ہم انہیں علیحدہ کر دیں گے کیونکہ ماؤف ٹکڑا سارے جسم کو خراب کر دیتا ہے۔پس جاؤ اور اپنے بھائیوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور نئی نئی ذمہ داریوں کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کے ذمہ ڈالی گئی ہیں پورا کریں۔پہلے ہم کڑھا کرتے تھے کہ ہم انگریز کے ماتحت ہیں اس لئے ہم اپنے ملک کی ، اپنے وطن کی اور اپنی قوم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے لیکن اب ہماری بیٹیاں کاٹ دی گئی ہیں ، ہماری طوق اُتار دیئے گئے ہیں۔ایک شیر کو جب چھوڑ دیا جاتا ہے تو کچھ دیر کے لئے اُس پر کسل طاری ہوتا ہے اور وہ انگڑائیاں لیتا ہے۔اتنی دیر کے لئے اگر تم پر بھی کسل طاری رہتا ہے یا تم انگڑائیاں لیتے ہو تو تم معافی کے قابل ہولیکن اگر تم اس کے بعد بھی گرے رہتے ہو، اگر تم اس کے بعد بھی سوئے رہتے ہو تو تم معافی کے قابل نہیں سمجھے جا سکتے۔اگر شیر پنجرے سے نکل کر بھی سویا رہتا ہے تو اس کا مرجانا اس کے زندہ رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔اس سے بہتر تو گیدڑ ہے جو جانور تو ہے لیکن کم سے کم بے ایمان تو نہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ لوگوں کو بھی ، میری اولا د کو بھی اور آ