انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 57

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء میں ہو اور اس کے فوائد دوسروں کو پہنچیں گے تم کو تو نہیں پہنچیں گے لیکن تم اس بات کے مدعی ہو کہ تم نے خدا تعالیٰ کی مخلوق اور تمام بنی نوع انسان کے لئے کام کرنا ہے۔تم نے یہ نہیں دیکھنا کہ اس سے تم کو فائدہ پہنچتا ہے یا کسی اور کو۔تم نے یہ دیکھنا ہے کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو سب سے زیادہ ادا کرتے ہو۔یہ وہ چیز ہے جس سے تم اپنے ایمان کو محفوظ کر سکتے ہو اور یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تمہارے مخالفوں کے سینوں سے بغض اور کینہ دور کر دے گا۔یہ وہ چیز ہے جس سے تم انہیں کھینچ کھینچ کر اپنی طرف لے آؤ گے اور آخری بات وہی ہوگی جو صحابہ کے وقت میں ہوئی۔وہی لوگ جو اس وقت ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور ہماری مخالفت کرنا اپنا ہی فرض سمجھتے ہیں انہوں نے ایک دن نہایت ادب سے ہمارے سامنے اپنا سر جھکانا ہے اور یقیناً ایک دن ایسا آئے گا جب ہمارے دشمن انتہائی لجاجت سے ہمیں کہیں گے کہ تم ہمارے سر پر ہاتھ رکھو اور ہمیں برکت دو۔یہ دن خواہ جلد آئے یا دیر سے آئے بہر حال آکر رہے گا لیکن اس دن کو جلد تر لانے کیلئے ہم کو بھی قربانیاں دینی پڑیں گی۔ہمیں اعلیٰ اخلاق دکھانے پڑیں تھی گے۔ہمیں ایثار کا بلند ترین نمونہ پیش کرنا پڑے گا اور جب تک ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کو ادا نہیں کریں گے اُس دن کے آنے میں دیر ہوتی چلی جائے گی۔پس میں جماعت کو اچھی طرح آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ اب صرف چندوں کے دینے سے کوئی شخص پورا احمدی نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اب ہماری ذمہ داریاں بدل گئی ہیں۔جس طرح چار سال کے بچے کا کپڑا اٹھارہ سالہ نوجوان کو کام نہیں دے گا اُسی طرح تمہاری پہلی قربانیاں اب تمہارے کام نہیں آ سکتیں۔جب تک جانی قربانیوں کی ضرورت نہیں تھی اُس وقت تک تم کامیاب سمجھے جاتے تھے لیکن اب جان کی قربانی کی بھی ضرورت ہے اور قوم اور وطن کی عزت کی تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو جانی قربانی کیلئے ہر وقت تیار رکھیں۔تمہاری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔اب تمہیں چاہئے کہ تم آگے سے بڑھ کر اپنا نمونہ پیش کرو۔تم نے پہلے چندے دینے میں ایک بے مثال نمونہ دکھا دیا ہے یہاں تک کہ ہندوستان اور دوسرے آزاد ممالک بھی وہ کام نہیں کر رہے جو تم کر رہے ہو۔اب تمہیں دنیا کو یہ بھی دکھا دینا چاہئے کہ جان کی قربانی کی پیش کرنے میں بھی تم سب سے بڑھ کر ہو۔یہ نمونہ ہے جو میں تم سے دیکھنا چاہتا ہوں یہ نمونہ ہے