انوارالعلوم (جلد 21) — Page 486
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۶ اسلام اور ملکیت زمین لوگوں کی ملکیت ہو گئے اور ایسی ملکیت ہو گئے کہ جب بنو عباس نے شاید اسی قسم کے فتولی سے متاثر ہو کر جو اس وقت زمیندارہ کے خلاف لوگ دے رہے ہیں لوگوں سے زمین چھین کر بغداد بسایا تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس چھینی ہوئی زمین کے مقبرہ میں دفن ہونا بھی پسند نہ فرمایا تو اور وصیت کی کہ مجھے اس جگہ سے باہر دفن کیا جائے۔پُرانے فقہا نے جو کچھ سواد کے متعلق سمجھا ہے میں اس کے متعلق بھی اس جگہ پر ایک حوالہ نقل کر دیتا ہوں۔حنفیوں کی مشہور کتاب ردّ المختار شامی میں لکھا ہے۔سواد العراق ای قراه وكذا كل مافتح عنوة واقر اهله عليها اوصولحوا ووضع الخراج على ارضيهم فهي مملوكة لاهلها۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لان الامام اذا فتح ارضا عنوة له ان يقرا هلها عليها يضع عليها الخراج وعلى رؤوسهم الجزية فتبقى الارض مملوكة لاهلها یعنی سواد عراق کی زمین اور اسی طرح اُن تمام ممالک کی زمین جو زور کے ساتھ فتح کئے گئے ہوں اور فاتح حکومت نے اُس ملک کے باشندوں کو اُن کی زمینوں پر قابض رہنے دیا ہو یا ایسے ملک جن کے ساتھ صلح کی گئی ہو اور اُن کی زمین پر خراج لگا دیا گیا ہو یہ سب کی سب (سواد عراق اس کی میں شامل ہے ) اُن زمینوں کے مالکوں کی ملکیت ہونگی کیونکہ جب امام کسی زمین کو زبر دستی فتح ہے کرے تو وہ اگر مناسب سمجھے تو اُس جگہ کے لوگوں کو اُس پر قابض رہنے دے اور اُن پر خراج مقر ر کر دے اور جزیہ لگا دے اس صورت میں زمین اُنہی لوگوں کی رہتی ہے جن کے قبضہ میں وہ ہوتی ہے۔اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ سوادِ عراق کی بحث کا زمینوں کی ملکیت کے ساتھ کوئی تعلق کی نہیں۔اور جیسا کہ میں نے ردالمختار شامی کے حوالہ سے بتایا ہے سوادِ عراق کی زمینوں کو حنفیوں نے ویسی ہی افراد کی مملوکہ زمینیں قرار دیا ہے جیسا کہ کوئی اور زمین ہو۔شاہی زمین ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ملکیت میں کچھ بھی فرق نہیں پڑتا۔شاہی زمین ہونے کے محض اتنے معنی ہیں کہ اُس زمانہ میں جب وہ ملک فتح ہوا اُس زمین کے حقوق ملکیت کسی اور شخص کو نہیں دیئے گئے لیکن بعد میں جب وہ حقوق دوسروں کو دیدئے گئے تو وہ لوگ جو اُس پر قابض تھے اُن سب کو ویسا ہی مالک سمجھا گیا جیسا کہ دنیا میں کوئی اور مالک ہوتا ہے۔