انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 487

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۷ اسلام اور ملکیت زمین پھر اسی کتاب میں لکھا ہے۔ان ارض سواد العراق مملوكة لاهلها يجوز بيعهم لها وتصرفهم فيها وكذلك ارض مصر والشام ۱۰۳ یعنی سواد عراق کی زمین جن لوگوں کی ملکیت میں ہے وہ اُنہی کی مملوکہ ہے ( حکومت کی نہیں ) وہ اُس کو بیچ بھی سکتے ہیں اور جس طرح چاہیں اُس میں تصرف بھی کر سکتے ہیں ( یعنی عمارتیں وغیرہ بنالیں یا باغ بنا لیں) اسی طرح مصر اور شام کی زمین کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔خلاصہ یہ کہ سواد عراق کے محض اتنے معنی ہیں کہ حضرت عمر نے اُس زمین کو اُسی زمانہ کے مسلمانوں میں تقسیم کر کے عشری نہیں بنایا بلکہ اُس کو خراجی رہنے دیا تا کہ آئندہ آنے والی نسلوں میں اُن زمینوں کو تقسیم کیا جا سکے اور اُن کے لئے بھی کچھ حصہ باقی رہے۔ورنہ جو کسان اُس پر قابض تھے وہ اُس کے ویسے ہی مالک تھے جیسے اور موروثی کسان مالک ہوتے ہیں اور جن لوگوں کو وہ زمین دی جاتی تھی یا جو حکومت سے خریدتے تھے وہ اُس کے ویسے ہی مالک ہوتے تھے جیسے کوئی اور زمینوں کا مالک ہوتا ہے۔اگر کسی کے دل میں یہ شبہ ہو کہ آیا حکومت کا مال فروخت بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ تو اس کے لئے میں چند حوالے پیش کرتا ہوں۔مذکورہ بالا کتاب میں ہی لکھا ہے۔لو باع شيئا من بيت المال صح بيعه ۱۰۴ اگر امام یعنی حکومت بیت المال کی چیزوں میں سے کسی چیز کو بیچے تو اُس کی بیع درست ہوگی۔اسی طرح لکھا ہے۔من اشترى شيئا مما صارت لبيت المال فقد ملكها ۱۰۵ جو شخص کوئی ایسی چیز خریدے جو بیت المال کی تھی تو وہ اس کا پوری طرح مالک ہو جائے گا بلکہ یہاں تک لکھا کہ اگر کوئی خراجی زمین حکومت سے خریدے تو وہ بھی خراجی نہیں رہے گی عشری بن ا جائے گی۔چنانچہ لکھا ان الخراج ارتفع عن اراضى مصر لعودها الى بيت المال بموت ملاكها فاذا اشترها انسان من الامام بشرطه شراء صحيحا ملكه ولا خراج عليها لان الامام قد اخذ البدل للمسلمين ١٠٦ یعنی مصر کی زمین پر سے خراج اُڑ گیا۔مصر کی زمین سے خراج کیوں اُڑا؟ اس لئے کہ اُس کے قابض اُمراء کے مرنے کے بعد وہ زمین بیت