انوارالعلوم (جلد 21) — Page 485
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۵ اسلام اور ملکیت زمین کیا بلکہ اُن کے ساتھ ایک اور جماعت کو ملایا ہے اور فرماتا ہے اور اُن لوگوں کے لئے بھی جواس گھر میں پہلے سے رہتے تھے اور جنہوں نے کہ ایمان کو اپنے دلوں میں داخل کر لیا تھا وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اُن کے شہر میں آبسے ہیں اور اپنے دلوں میں اُس مال سے جو اُن کو دیا جائے پورا استغناء محسوس کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ کتنی ہی غربت اور فاقہ میں کیوں نہ مبتلا ہوں۔اور جس قوم کے دل سے اللہ تعالیٰ بخل کو دور کر دے وہ قوم بڑی کامیابی پانے والی ہوتی ہے۔یہ آیتیں پڑھنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جہاں تک ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا ہے یہ آیتیں خاص طور پر انصار کے متعلق ہیں۔پھر فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اُن کی کے ساتھ ایک اور جماعت کو ملا دیا اور فرمایا وہ لوگ جو اُن کے بعد آئیں گے اور کہیں گے اے کی ہمارے رب ! ہمارے گناہوں کو بخش اور ہمارے اُن بھائیوں کو بخش جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے تھے اور ہمارے دلوں میں مومنوں کے متعلق بغض پیدا نہ کر تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے۔پھر فرمایا دیکھو! یہ آیت اُن سب لوگوں کے متعلق ہے جو بعد میں آئیں گے اور قرآنی فیصلہ کے مطابق حکومت کو تمام لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔پس ہم کس طرح تمام اموال کو موجودہ نسل میں تقسیم کر دیں اور جو ابھی تک آئے نہیں اُن کا حصہ کوئی چھوڑ میں ہی نہ۔اس پر تمام صحا بہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ متفق ہو گئے اور سوا د عراق پر خراج لگانے کا فیصلہ دے دیا گیا۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یہ کوئی اسلامی فتوی نہیں کہ تمام مفتوحہ ممالک کی زمین حکومت کی ہوتی ہے۔اگر یہ فتویٰ ہوتا تو عرب کے مفتوحہ علاقوں کی زمین کیوں تقسیم کی جاتی ؟ یا سواد عراق سے باہر عراق کے علاقوں کی یا شام کے بعض علاقوں کی زمین کیوں تقسیم کی جاتی ؟ جو بات اِس حوالہ میں سے نکلتی ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ حکومت کو صرف اپنے موجودہ زمانہ کے لوگوں کی ضرورتوں کا ہی خیال نہیں رکھنا چاہئے بلکہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی خیال کے ماتحت ساری فتوحات نہیں بلکہ فتوحات کا ایک حصہ حکومت کے قبضہ میں رکھا۔لیکن آہستہ آہستہ وہ علاقے بھی آخر حکومت نے تقسیم کر دیئے اور