انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 300

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۰ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح پاکستان بے جان ہے اور آپ لوگ جاندار ہیں۔پس پاکستان کی آپ نے حفاظت کرنی ہے۔پاکستان نے آپ کی حفاظت نہیں کرنی۔بے جان کی طرح ایک چھوٹا بچہ بھی ہوتا ہے۔عورت کو بچہ خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بچہ پیدا کر سکے۔چنانچہ دیکھ لو بعض لوگوں کے ہاں ساری عمر بچہ پیدا نہیں ہوتا وہ سارا ز ور علاج معالجہ پر صرف کر دیتے ہیں مگر بچہ نہیں ہوتا۔پس بچہ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے مگر اس کے بعد کبھی تم نے دیکھا کہ بچہ ماں کی حفاظت کر رہا ہو؟ یہ سیدھی بات ہے کہ بچہ ماں کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ماں بچہ کی حفاظت کرتی ہے۔وہ اسے دودھ پلاتی ہے، اُس کی سردی گرمی کی کا خیال رکھتی ہے ، اُس کے پاخانہ پیشاب کا خیال رکھتی ہے ، اُس کی صحت کا خیال رکھتی ہے۔اور اگر وہ اس کی نگہداشت نہیں کرتی یا بیماری میں اس کا علاج نہیں کرتی تو وہ مرجاتا ہے۔بچہ ایسی چیز ہے جو ماں کے اختیار میں نہیں مگر مارنا اس کے اختیار میں ہے۔کئی مائیں ہیں جو اپنے بچوں کو مار دیتی ہیں مگر اس طرح نہیں کہ ان کا گلا گھونٹ کر بلکہ اس طرح کہ ان کی سردی گرمی کا خیال نہ رکھا اور بچہ کو نمونیہ ہو گیا اور وہ مر گیا۔یا قبض کا خیال نہ رکھا تو تشنج ہونے لگ گیا یا فالج گرا اور مر گیا۔معدہ کا خیال نہ رکھا تو دست آنے لگ گئے اور بچہ ہلاک ہو گیا۔غرض مائیں بچہ پیدا نہیں کر سکتیں مگر اُس بچہ کو مارضرور سکتی ہیں۔اسی طرح پاکستان آپ پیدا نہیں کر سکتے تھے یہ خدا تعالیٰ ہی پیدا کر سکتا تھا اور اُس نے اپنے فضل سے پاکستان آپ لوگوں کو دے دیا لیکن اب ی پاکستان کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے جس طرح ماں اپنے بچہ کی خبر گیری نہیں کرتی تو اسے مار دیتی ہے اسی طرح اگر آپ بھی پاکستان کی خبر گیری نہیں کریں گے تو وہ ضائع ہو جائے گا کیونکہ وہ بے جان چیز ہے اور اُسے زندہ رہنے والے عنصر نے قائم رکھنا ہے۔اس کمز ور عنصر کو اس طاقتور عصر نے قائم رکھنا ہے جسے خدا تعالیٰ نے عقل و فہم سے حصہ دیا ہے۔پس آپ لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان تو آپ لوگوں نے مانگا اور وہ آپ کو مل بھی گیا مگر کیا جب آپ لوگوں کی نے پاکستان مانگا تھا تو اس وقت آپ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ اگر ہمیں پاکستان مل گیا تو ہمیں اس کی خبر گیری کرنی پڑے گی۔ماں جب اللہ تعالیٰ سے بچہ مانگتی ہے اور کہتی ہے کہ خدایا ! تو مجھے ا فضل سے اولا د عطا فرما تو وہ یہ بھی جانتی ہے کہ مجھے بچہ کے لئے راتوں کو جاگنا پڑے گا ، مجھے اپنا