انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 301

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۱ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح خون اسے اپنی چھاتیوں سے پلانا پڑے گا، مجھے سخت سردی کی راتوں میں اسے اپنے کندھے سے لگا کر ٹہلنا پڑے گا ، وہ پیشاب کر دے گا تو میں اُس کے کپڑوں کو بدلواؤں گی اور خودساری رات انہی کپڑوں میں ٹھٹھرتی رہوں گی۔غرض وہ بجھتی ہے کہ مجھ پر کیا ذمہ داریاں ہیں اور وہ ان ذمہ داریوں کو برداشت کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوتی ہے۔آپ لوگ بھی پاکستان کی مائیں ہیں اور پاکستان وہ بچہ ہے جو خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ماں تو جانتی ہے کہ اُس پر بچہ کے متعلق کیا کیا ذمہ داریاں آنے والی ہیں کیا وہ ذمہ داریاں جو پاکستان بننے کے بعد آپ پر عائد ہونے والی تھیں وہ آپ کے خیال میں تھیں یا نہیں تھیں۔یہ سیدھی بات ہے کہ جب تک ہمارے ملک کا انگریز حاکم تھا انگریز اس بات کا ذمہ دار تھا کہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے۔جب تک انگریز حکمران تھا انگریز اس بات کا ذمہ دار تھا کہ اس ملک کی تجارت کو ترقی دے۔اس ملک کی تعلیم کو ترقی دے، اس ملک کی صنعت وحرفت کو ترقی دے اور اس ملک کی حکومت کو صحیح طور پر چلائے مگر جب آپ لوگوں نے کہا کہ خدایا! یہ بچہ ہمارا ہے یہ ہمیں دے دے اور خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دے دیا تو اب اس بچہ کا کوئی اور ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔صرف اور صرف آپ لوگ ہی اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ یہاں کا علم ترقی کرے، یہاں کی صنعت و حرفت ترقی کرے، یہاں کے لوگوں کی دینی حالت ترقی کرے، یہاں کے لوگوں کی اخلاقی حالت ترقی کرے۔اور یہاں کی حکومت صحیح طور پر چلے۔اسی طرح اب آپ ہی اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اگر کوئی دشمن آپ کے ملک پر حملہ آور ہو تو آپ خود اس کا دفاع کریں۔جب تک یہ بچہ پیدا نہیں ہوا تھا اُس وقت تک خدا کا تھا مگر جب اُس نے یہ بچہ تم کو دے دیا تو اب تمہارا کام ہے کہ تم اس کی حفاظت کرو اور اس کیلئے ان قربانیوں سے کام لو جو بچہ کی حفاظت اور نگہداشت کے سلسلہ میں کرنی پڑتی ہیں۔بہر حال یہ سیدھی بات ہے کہ اگر آپ نے اُس وقت سوچا ہوگا کہ پاکستان ہمیں ملنا چاہیے تو پھر یہ بھی سوچا ہوگا کہ اب وہ ساری ذمہ داری ہم کو لینی پڑے گی جو پہلے انگریزوں پر ہوا کرتی تھی۔پھر ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ بچے کی تربیت اور بڑے کی تربیت میں فرق ہوتا ہے۔ماں کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے پہلے ہی دن روٹی پکا پکا کر کھلانی شروع کر دے۔وہ جانتی ہے کہ کچھ مدت تک وہ