انوارالعلوم (جلد 21) — Page 22
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء کے بعد اڑھائی ہزار سال گزرنے تک بھی پوری نہ ہوئی۔اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ساڑھے بائیس سو سال کا عرصہ ہی سمجھ لیا جائے تب بھی اتنے لمبے عرصہ میں کتنی چیزیں غائب ہو جاتی ہیں۔اتنا لمبا عرصہ گزرنے کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پیدا ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا پوری ہوئی کہ اے خدا! تو اُن میں اپنا رسول مبعوث فرما جو تیری آیات پڑھ پڑھ کر انہیں سنائے ، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور اُن کا تزکیہ نفوس کرے۔اتنے سالوں تک انتظار کرنے میں خواہ عرب مکہ میں رہے یا باہر بہر حال ان کے اندر کوئی مایوسی پیدا نہیں ہوئی۔پھر یہ کونسی عقل کی بات کی ہے کہ ہم ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد ہی مایوس ہو جائیں اور خیال کر لیں کہ قادیانی ہمیں واپس نہیں ملے گا۔محض خیال کر لینا کہ چونکہ ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے اور ہمیں قادیان نہیں ملا اس لئے اب ہمیں اس کے واپس ملنے کی کوئی امید نہیں قطعی طور پر غلط ہے ہمیں امید توی یہی ہے کہ قادیان ہمیں واپس مل جائے گا مگر کیا احمدی اتنے گرے ہوئے ہیں کہ وہ کچھ مدت کا انتظار بھی نہیں کر سکتے۔پس ہم نے جو نیا مرکز بنانا ہے یہ مایوسی کی وجہ سے نہیں بلکہ درمیان اور عارضی زمانہ کے لئے بھی لوگ کام کیا کرتے ہیں اس لئے ہم نے بھی یہ کام کیا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ کیا پیشگوئی کرنے والا جھوٹا ہے اور کیا اس کی یہی ایک پیشگوئی ہے یا اس کی صداقت کے اور بھی نشانات ہیں ؟ آخر ہم میں سے بعض نے یہ خیال کیوں کر لیا کہ ہمیں قادیان واپس نہیں ملے گا یا وہ کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں قادیان کے واپس ملنے میں شبہ ہے اس کی دو ہی وجہیں ہیں۔اوّل اس لئے کہ ایک سال ہو گیا ہے مگر ہمیں قادیان واپس نہیں ملا اس کے جواب میں میں نے یہ دلیل دی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے متعلق جو پیشگوئی کی اس کے بعد ساڑھے بائیں سو سال تک وہ شخص نہ آیا جس کے متعلق آپ نے پیشگوئی کی تھی مگر عربوں کو اس کے پورا ہونے میں کوئی شبہ نہ گزرا۔پھر قادیان کے واپس ملنے میں ہمیں مشبہ کیوں ہو۔دوسرا جواب میں نے یہ دیا ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہا کیلی پیشگوئی ہے یا کوئی اور بھی ہے اگر آپ کی اور بھی پیشگوئیاں ہیں اور وہ پوری ہوگئی ہیں تو یہ پوری کیوں نہیں ہوگی۔اگر یہ ایک پیشگوئی ہو تب تو یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ ممکن ہے ہمیں قادیان واپس نہ ملے