انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 23

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۳ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء لیکن جب آپ کی سینکڑوں اور ہزاروں پیشگوئیاں پوری ہو کر لوگوں کی حیرت کا موجب ہوئیں تو ہمیں کیسے شبہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی۔ان حیرت انگیز انکشافات کو پورا ہوتے دیکھ کر جو آپ پر ظاہر ہوئے ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی بلکہ یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ یہ پیشگوئی بھی ضرور پوری ہوگی اور ہم یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ ہمیں قادیان واپس نہیں ملے گا۔قادیان میں کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آتے تھے اور آپ سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھا ئیں۔مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا ای کرتے تھے کہ جو معجزے پہلے دکھائے جاچکے ہیں اُن سے آپ نے کیا فائدہ اُٹھایا ہے؟ آخر پہلے جو معجزے دکھائے گئے ہیں آپ ان کے متعلق غور کریں کہ وہ صحیح تھے یا نہیں۔اگر وہ غلط تھے تے تو پھر میرا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا ایسی صورت میں مجھ سے اور معجزات مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔اور اگر پہلے جو معجزات دکھائے گئے تھے وہ بچے تھے تب بھی نئے معجزات تمہارے لئے فائدہ مند نہیں ہو سکتے کیونکہ جب آپ نے پہلے معجزات سے فائدہ نہیں اُٹھایا تو اب نئے معجزات سے تم کیا فائدہ اُٹھاؤ گے۔یہی جواب میں قادیان کے متعلق دیتا ہوں۔قادیان کے واپس ملنے کے متعلق ہمیں مطبہ تب پڑ سکتا تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی اور پیشگوئی نہ ہوتی۔اگر آپ کی اور بھی پیشگوئیاں اور نشانات ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پورے ہوئے جنہوں نے قطعی اور یقینی طور پر ثابت کر دیا کہ آپ سچے رسول ہیں تو آپ کی ایک پیشگوئی کے متعلق ہم کیسے طبہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں ہم جنہوں نے آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ہم صرف آپ کو دیکھ کر ہی جانتے ہیں کہ آپ بچے تھے جھوٹے نہیں تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ فرمایا اُس وقت حضرت ابو بکر کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔آپ جب واپس مکہ میں آئے تو رستہ میں ایک دوست کے ہاں آرام کرنے کیلئے ٹھہر گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مئی کے مہینہ میں دعویٰ نبوت فرمایا تھا اور چونکہ سخت گرمی کا موسم تھا آپ نے بجائے گھر جانے کے مناسب خیال کیا کہ آپ اپنے دوست کے ہاں دو پہر کاٹ لیں۔آپ ابھی اپنے دوست کے گھر بیٹھے ہی تھے کہ اُس کی ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی ہائے تیرا دوست تو پاگل