انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 21

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء سے یہ بات غلط ہو سکتی ہے۔اگر کوئی شخص احمدیت پر یقین رکھتا ہے اگر کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے دعوئی میں سچا مانتا ہے تو اسے میری دشمنی کی وجہ سے خلافت ! تنظیم سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے یہ حق تو نہیں ہو سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی میں مشبہ کرے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھتا ہے پھر میں ایسے شخص سے جو یہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ ہم اپنا مرکز ایک نئے مقام پر بنانے لگے ہیں اس لئے ہمیں قادیان کے واپس ملنے کی امید نہیں ہے دریافت کرتا ہوں کہ جب حکومت ریلیں بناتی ہے، نہریں بناتی ہے یا کوئی اور بڑا کام کرتی ہے تو وہ عارضی عمارتیں بناتی ہے یا نہیں ؟ ہم کی نے تو کئی جگہ پر دیکھا ہے کہ جب بھی حکومت کوئی بڑا کام کرتی ہے وہ لاکھوں کی عمارتیں کھڑی کر دیتی ہے۔لائیڈ بیراج کے وقت بھی لاکھوں کی عمارتیں بنائی گئی تھیں۔اب جب دریائے سندھ کا بند ٹوٹا ہے میں کوئٹہ سے واپس آیا تو راستہ میں پھونس کے چھپر سینکڑوں کی تعداد میں بنے ہوئے تھے ان میں مزدور رہتے تھے اور وہ بند کی مرمت کرتے تھے۔پس جب عارضی کام کے لئے کئی عمارتیں بنائی جاتی ہیں اور اُن پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو اس پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی تھی اُس وقت آپ نے خدا تعالیٰ کی سے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا! میں یہ گھر اس لئے بناتا ہوں کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک شخص پیدا ہو جو تیرا نبی ہو اور وہ تیری آیات پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سنائے ، تیری کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ نفوس کرے۔اس دعا کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو قائم کی کیا اور وہاں اپنی اولا د کو بسایا۔اس دعا کے سو سال بعد تک وہ آدمی نہیں آیا جس کے لئے دعا کی گئی تھی لیکن عربوں نے اپنے یقین کو نہ چھوڑا اور انہوں نے سمجھا کہ وعدہ ابراہیمی ضرور پورا ہو کر رہے گا۔دوسو سال گزرنے کے بعد بھی وہ نبی نہ آیا۔پھر بھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔تین سو ، چارسو بلکہ پانچ سو سال گزرنے کے بعد بھی کسی نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے میں شک نہیں کیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا فاصلہ ساڑھے بائیس سو سال کا ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق چھپیں یا چھبیس سو سال کا فاصلہ ہے۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی آ۔