انوارالعلوم (جلد 21) — Page 498
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۸ اسلام اور ملکیت زمین لیکن بعض دفعہ ایسے امور پیدا ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے اس قاعدہ میں کچھ استشنی کرنا پڑتا تھ ہے اور یہ وجوہات دو حالتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔پہلی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ کسی چیز کے مالک نے ایسا قرضہ دینا ہو جس کا ادا کرنا ضروری ہو اور وہ اُس کی ادائیگی سے انکار کر دے اور اُس کا قرض خواہ قاضی کے پاس اُس کا معاملہ لے جائے۔لیکن امام ابو حنیفہ نے اس صورت میں بھی اُس کی جائیداد کو جبراً فروخت کر کے قرضہ ادا کرنا نا جائز قرار دیا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ جائز قرار دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو اس کے انسانی حقوق سے محروم کر دیا تھی جائے ( گویا امام ابو حنیفہ کے نزدیک کسی چیز کے مالک سے اُس کی مملوکہ چیز کا لے لینا خواہ حکومت ہی ایسا کرے یا جج کے حکم سے ہی ایسا کیا جائے اس لئے درست نہیں کہ یہ انسانیت کے حقوق کے منافی ہے۔لیکن جیسا کہ اوپر کی عبارت سے ظاہر ہے امام ابو حنیفہ کے علاوہ بعض دوسرے علماء اس کو جائز قرار دے دیتے ) دوسری صورت یہ ہے کہ بادشاہ ملک کے عام لوگوں کے فائدہ کے لئے جیسے نہروں کا کھودنا ہے زمین لینے پر مجبور ہو اور مالک زمین حکومت کے ساتھ کسی قیمت پر بھی فیصلہ کرنے پر راضی نہ ہوتا ہو۔تب معاملہ حکومت کو عدالت کے سامنے لے جانا چاہئے۔تب عدالت ماہر لوگوں کے فیصلہ کے مطابق جو اُس زمین کی رائج الوقت قیمت مقرر کریں اُس مالک سے زمین کو جبراً چھین کر حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔اس حوالہ سے ثابت ہے کہ فقہاء حنفیہ کے نزدیک ( اور اس بارہ میں اُنہی کے فتوے موجود ہیں کیونکہ حکومت حنفیوں کے ہاتھ میں رہی ہے ) کسی کی زمین کا چھیننا حکومت کے لئے جائز نہیں۔ہاں اگر ملک کی اجتماعی ضرورتوں کے لئے جیسے نہریں یا سڑکیں یا ریلیں وغیرہ ہیں زمینوں کی ضرورت ہو تو پھر ایسی قیمت پر زمینداروں سے حکومت زمین خرید سکتی ہے جس پر اُس کا اور زمیندار کا باہم سمجھوتہ ہو جائے۔اگر کسی وجہ سے سمجھوتہ نہ ہو سکے تو پھر حکومت کو عدالت مقررہ کی کے پاس معاملہ لے جانا ہوگا جو ماہرینِ فن کی ایک کمیٹی مقرر کرے گی جو رائج الوقت قیمت کی لگائے گی۔اور اُس قیمت پر زمین جبراً خریدنے کا حق حکومت کو دے گی۔بغیر عدالت کی اجازت کے اور عدالت کی مقرر کردہ قیمت ادا کرنے کے حکومت جبراً کوئی زمین کسی فرد کی جو