انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 499

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۹ اسلام اور ملکیت زمین اُس کے ماتحت رہتا ہو نہیں لے سکتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری حکومت یا دنیا کی کوئی حکومت اس فیصلہ پر عمل کرے یہ تو حکام کا کام ہے کہ وہ اپنے لئے قانون تجویز کریں۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اسلام یا فقہ حنفیہ کے نام پر وہ یہ کام نہ کریں کیونکہ انسان جس چیز کا نام لیتا ہے ذمہ داری اس کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔اگر وہ اسلام یا فقہ حنفیہ کا نام لیں گے تو اس فعل کا جو بھی نتیجہ نکلے گا وہ اسلام اور فقہ حنفیہ کی طرف منسوب ہوگا۔اور یہ یقینی بات ہے کہ آج اگر کمیونزم کے زور کی وجہ سے اس قسم کی باتیں پسند کی جاتی ہیں تو وہ دن آنے والا ہے اور ضرور آنے والا ہے جب ان باتوں کو انصاف محض کی وجہ ی سے بُرا قرار دیا جائے گا اور کمیونزم کا نظام کلّی طور پر بدل دیا جائے گا۔اُس وقت ایک مسلمان کے لئے یہ بات دنیا کے سامنے پیش کرنی بڑی مشکل ہو جائے گی کہ وہ بات جو اسلام کے نام پر پیش کی گئی تھی درحقیقت وہ اسلام نے نہیں سکھائی تھی بلکہ کمیونزم کی بعض تعلیموں کو اسلام کا نام دے دیا گیا تھا۔گذشتہ زمانوں میں ایسی غلطیاں بعض مسلمانوں نے کی ہیں اور آج ہمیں اُن کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ہمیں اسلامی تعلیم کو وقتی ضرورتوں اور وقتی تقاضوں سے بالکل آزا در رکھنا کی چاہیے۔ہمیں ہر نئی تحریک جو کہ دنیا میں پسندیدہ اور مرعوب عام ہو جائے اُس کو اسلام کا نام دے کر کل اسلام کے لئے اعتراضات کے دروازے نہیں کھولنے چاہئیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کمیونزم کا خوف دنیا پر طاری ہو رہا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ بڑی بڑی حکومتیں بھی جو اس وقت کمیونزم کا مقابلہ کرنے کا دعوی کر رہی ہیں اُن کے دل اندر سے کھو کھلے ہو رہے ہیں۔اُردو زبان کا یہ مشہور مقولہ ہے کہ:۔خدا سمجھو زبان خلق کو نقارہ یعنی جب دنیا میں لوگ کثرت سے ایک آواز اُٹھانے لگتے ہیں تو قلوب مرعوب ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ الہی فیصلہ ہے اور اسی طرح ہو کر رہے گا حالانکہ وہ آواز محض ایک رو ہوتی ہے جیسے بہاؤ کی طرف پانی بہتا ہے لیکن ہمیشہ بہاؤ کی طرف بہنے دینا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی۔جن لوگوں نے یہ کہا کہ پانی بہاؤ کی طرف بہا کرتا ہے اُن کے ملک اُجڑتے رہے لیکن جنہوں نے یہ کہا کہ بے شک پانی بہاؤ کی طرف بہتا ہے لیکن بہاؤ کا بنانا بھی خدا تعالیٰ نے۔