انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 14

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۴ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء بڑھئی اور درجنوں لوہار اور دوسرے پیشہ ور درکار ہوں گے جو وہاں عارضی طور پر رہنا چاہیں یا کچ مستقل طور پر رہائش اختیار کرنا چاہیں۔عارضی وہ جو وہاں رہائش اختیار کرنا نہیں چاہتے اور مستقل وہ جن کا یہ ارادہ ہو کہ وہ وہیں بس جائیں۔ربوہ کی زمین کے متعلق بعض غلط فہمیاں بھی پیدا ہوگئی ہیں جن کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ت ہوں۔ربوہ ہم نے اس زمین کا نام رکھا ہے جو نیا شہر بسانے کیلئے گورنمنٹ سے خریدی گئی ہے۔ابھی تک ہمیں وہاں عمارت بنانے کی اجازت نہیں ملی جو زمین ذاتی ہواُس پر ہر وقت عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں مگر جو زمین گورنمنٹ سے خریدی گئی ہو اُس کا نقشہ جب تک حکومت پاس نہ کی کرے کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں ہوتی۔پس بوجہ گورنمنٹ کی زمین ہونے کے جب تک نقشہ کی منظوری نہ ملے ہم وہاں کوئی عمارت نہیں بنا سکتے۔یہ زمین جو خریدی گئی ہے اس کے متعلق لوگوں میں مختلف قسم کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مثلاً بعض لوگوں نے زمین کی قیمت بھجوائی لیکن اس قیمت پر انہیں زمین نہیں دی گئی۔اس کی پہلے بھی وضاحت کی گئی تھی اور اب بھی اُس کی وضاحت کر دینا چاہتا ہوں۔مؤمن کا ذہن تیز اور اُس کی عقل صاف ہونی چاہئے کیونکہ مؤمن کے سپر د جتنا کام ہوتا ہے وہ اگر کند ذہنی سے کام لے تو وہ اس کو پورے طور پر سرانجام نہیں دے سکتا۔مؤمن کا ذہن اتنا تیز ہونا چاہئے کہ وہ سنتے ہی بات کو سمجھ جائے۔ربوہ کے متعلق جو پہلے اعلان کیا گیا تھا یہ تھا کہ ۵۰۰ کنال تک زمین کی قیمت سو روپیہ فی کنال کے حساب سے لی جائے گی اور پندرہ اکتوبر تک لی جائے گی۔اس اعلان کے یہ صاف معنی تھے کہ ۵۰۰ کنال تک زمین کی قیمت ایک سو روپیہ فی کنال ہوگی یا پندرہ اکتوبر تک زمین کی قیمت ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے لی جائے گی۔اب اگر پندرہ اکتوبر تک ۵۰۰ کنال زمین پوری فروخت نہ ہوتی تب بھی یہ تاریخ گزرنے پر قیمت بدل جاتی اور اگر پندرہ اکتوبر سے پہلے۵۰۰ کنال زمین ختم ہوتی تب بھی قیمت بدل جاتی اس قسم کی عبارت کے ہمیشہ یہ معنی ہوا کرتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو چیز بھی پہلے ختم ہو جائے گی اُس کے ساتھ ہی قیمت بھی ختم ہو جائے گی۔اگر ۵۰۰ کنال پندرہ اکتوبر تک بکے تو پندرہ اکتوبر تک تو وہ زمین ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے مل جائے گی لیکن اس تاریخ کے بعد اسی نرخ پر زمین نہیں ملے گی اسی