انوارالعلوم (جلد 21) — Page 15
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء طرح اگر ۵۰۰ کنال ختم ہو جائے اور مقررہ تاریخ میں خواہ پندرہ دن باقی ہوں تو چونکہ رقبہ ختم ہو گیا اس لئے باقی دنوں میں زمین اسی قیمت پر نہیں ملے گی۔مگر دوستوں نے اس اعلان کو نہ سمجھا وہ سمجھتے رہے کہ انہیں لازمی طور پر ۱۵ /اکتوبر تک ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے زمین ملے گی پس جن لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ زمین جس کے متعلق یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ می ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے ملے گی وہ ختم ہو گئی ہے اور اب اس نرخ پر زمین نہیں مل سکتی تو انہوں نے اعتراض کرنے شروع کر دیئے لیکن یہ درست نہیں یہ دونوں چیزیں بہ یک وقت اخبار میں شائع شدہ موجود ہیں یعنی ۵۰۰ کنال ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے دی جائے گی اور پندرہ اکتوبر تک ملے گی۔اس زمین کو بعد میں ۸۰۰ کنال بھی کر دیا گیا مگر وہ کچھ ۸۰۰ کنال بھی ۶ یا ۷ اکتوبر تک ختم ہوگئی اور اس کے بعد جو درخواستیں موصول ہوئیں وہ رڈ کر کی دی گئیں لیکن بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے وہ اتنی وضاحت کے باوجود اتنے بھولے پن سے جواب دیتے ہیں کہ اگر نظام کا سوال نہ ہوتا تو شاید اُن کے بھولے پن کی وجہ سے میں صدرانجمن احمدیہ کو مشورہ دیتا کہ اُن کو اسی قیمت پر زمین دے دی جائے۔کہتے ہیں کہ جہانگیر بادشاہ نے نور جہاں کے ہاتھ میں دو کبوتر دے کر کہا کہ انہیں پکڑے رکھنا چھوڑ نانہیں اور خود کسی کام کیلئے چلا گیا۔نور جہاں ابھی بچی تھی اس کے ہاتھ سے اتفاقاً ایک کبوتر اڑ گیا۔جہانگیر واپس آیا تو اُس نے نور جہاں سے پوچھا کہ دوسرا کبوتر کہاں گیا ؟ اس نے جواب دیا اُڑ گیا ہے۔جہانگیر نے پوچھا کس طرح؟ نور جہاں نے دوسرا کبوتر اپنے ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے کہا کہ اس طرح۔کہتے ہیں جہانگیر کا نور جہاں سے عشق یہیں سے شروع ہوا تھا۔اس واقعہ میں کوئی حقیقت ہو یا نہ ہو بہر حال بعض لوگوں کی سادگی ایسی انتہاء تک پہنچ گئی ہے کہ اگر نظام کا سوال نہ ہوتا تو شاید میں انہیں اسی قیمت پر زمین دے دینے کی سفارش کر دیتا۔بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے تو رو پید ۱۴ / اکتوبر کو بھیج دیا تھا دفتر والوں نے انہیں یہ جواب دیا که ۸۰۰ کنال زمین ختم ہو گئی ہے اور اب اس قیمت پر زمین نہیں مل سکتی اب زمین کا نرخ دو سو روپیہ فی کنال ہے اگر آپ اس قیمت پر زمین لینا چاہیں تو زمین مل سکتی ہے مگر آپ جلدی اطلاع دیں کہ آیا آپ کے لئے ایک سو روپیہ میں ۱۰ مرلہ زمین وقف کر دی جائے