انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 13

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۳ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء جتنی دال دے سکتا ہے دے دے۔دال ماش، چنا، مونگ اور مسور ثابت ہوں اور اگر چنے اور ماش ثابت بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں اگر یہ چیزیں دو تین ماہ پہلے آ جائیں تو دال تیار کرائی جاسکتی ہے۔تھوڑی تھوڑی چیز جمع کر کے اتنی کافی ہو جاتی ہے کہ اس سے کام چل سکتا ہے۔میں ایک اور تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں اس وقت ربوہ میں چیزیں ویسی ہی سستی ہیں جیسے گاؤں میں سستی ہوا کرتی ہیں لیکن جونہی وہاں قصبہ بنے گا لوگ چیزوں کو گراں کرنا شروع کر دیں گے جس وقت ہمارے آدمی وہاں گئے ہیں روپے کا چار پانچ سیر دودھ ملتا تھا مگر جوں ہی وہاں پچاس ساٹھ خیمے لگائے گئے دودھ مہنگا ہو گیا۔اب وہاں روپے کا تین سیر دودھ ملتا ہے۔اگر وہاں قصبہ بن گیا تو وہی لاہور والا حساب ہو جائے گا یعنی دودھ پونے دوسیر فی روپیہ کے حساب سے ملے گا۔پس ایسے علاقوں کے لوگ جہاں بھینسیں کثرت سے پالی جاتی ہیں یا وہ لوگ جن کے پاس بھینسیں ہوں انہیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ایسے لوگ جن کے پاس بھینسیں ہوتی ہیں وہ بسا اوقات خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کیلئے صدقے بھی دیتے رہتے ہیں جس میں بھینسیں وغیرہ دے دیتے ہیں۔پس وہ لوگ جن کے پاس بھینسیں ہوں یا جن کے دل میں خدا تعالیٰ یہ ڈالے کہ ایک بے آب و گیاہ جگہ میں رہنے والے لوگ خدا تعالیٰ کے فضل کو دودھ کی شکل میں پیئیں اُن کو میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ ایسی بھینسیں جو کارآمد ہوں اور دودھ دینے والی ہوں مرکز کو ھدیہ پیش کریں۔میرا خیال ہے کہ وہاں جانے سے پہلے وہاں اتنی بھینسیں جمع کر دی جائیں کہ ہمیں اردگرد کے علاقہ سے دودھ نہ خریدنا پڑے اور علاقہ میں اشیاء کی قیمتیں بلا وجہ گراں نہ ہو جائیں۔میں نے ربوہ میں عمارتیں تعمیر کرنے کیلئے یہ تحریک کروائی تھی کہ کا ریگر اپنا نام پیش کریں چنانچہ کئی سو لو ہار ، بڑھتی اور دوسرے کاریگروں کی درخواستیں آگئی ہیں۔ایسے لوگوں سے اگر وہ یہاں ہوں ( اگر وہ یہاں نہیں ہیں تو اُن کو اطلاع دے دی جائے) میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ می پابہ رکاب رہیں۔مرکز کی طرف سے جس وقت انہیں اطلاع ملے فوراً وہاں پہنچ جائیں اور کام کی شروع کر دیں۔ہمارے لئے ایک ایک دن نہایت قیمتی ہے اور ایک ایک دن کی دیر ہمارے لئے مضر ہے۔جب اللہ تعالیٰ ہمیں وہاں تعمیر کی اجازت دلا دے فوراً ہی ہمیں سینکڑوں معمار،