انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 376

انوار العلوم جلد ۲۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی والے سمجھیں گے کہ اس میں اور بنک میں کوئی فرق نہیں اور جب کوئی فرق نہیں تو وہ کیوں اپنا رو پیر امانت تحریک جدید یا امانت صدر انجمن احمدیہ میں جمع نہ کرا ئیں۔اس طرح لوگ خوشی سے اپنا روپیہ یہاں جمع کرائیں گے اور کثرت سے کرائیں گے۔یہ امانت غیر تابع مرضی نہیں ہوگی بلکہ تابع مرضی ہوگی۔بے شک کوئی صبح جمع کرائے اور دو گھنٹے بعد اپنی رقم واپس لے لے۔اگر انجمن نے میرا مشورہ مان لیا تو احباب کو بوقت ضرورت بغیر کسی خرچ کے روپیہ واپس مل جائے گا۔یا ان کے شہر کے بنک کے نام چیک بھجوا دیا جائے گا اور وہاں سے انہیں پوری کی پوری رقم مل جائے گی۔غرض یہ صورت ایسی ہے کہ بغیر کسی محنت کے اور بغیر کسی خطرے کے روپیہ جمع ہو سکتا ہے اور اُس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔بظاہر تو آئندہ کوئی خطرہ نظر نہیں آتا مگر پچھلے خطرہ کے وقت بھی جن لوگوں نے روپیہ جمع کرایا تھا ان کا روپیہ بالکل محفوظ رہا تھا اور اس میں بھی جی خدا تعالیٰ نے مجھے ہی کام کرنے کا موقع دیا تھا اور وہ اس طرح کہ بیت المال والوں نے اصرار کیا کہ روپیہ بنک میں محفوظ ہے اور اسے وہیں رہنے دیا جائے لیکن میں نے اصرار کیا کہ روپیہ جلد نکلوا ؤ۔اُس وقت ہندوستان سے روپیہ آنے میں کوئی روک نہ تھی۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے جو نہی اُنہوں نے روپے واپس منگوائے ہندوستان سے روپیہ آنا بند ہو گیا۔صرف ۶۰ ہزار روپیہ کی ایک رقم باقی رہ گئی جو میرے مشورہ کے بغیر رہنے دی گئی تھی۔تیسری صورت قرض ہے اگر جماعت نے امانت کی طرف پوری توجہ نہ دی تو پھر جماعت کی بعض جائدادیں گرور کھ کر اس کام کے لئے رقم حاصل کی جائے گی۔میرا ارادہ ہے کہ چندہ کی صورت میں ربوہ کی تعمیر کے لئے کوئی رقم جمع نہ کی جائے بلکہ جماعت کی بعض جائداد میں گروی رکھ کر قرض حاصل کر لیا جائے یا دوست امانت کی صورت میں اس کام میں مدد دیں۔اگر شہر بن ج گیا تو آپ لوگوں کے لڑکے یہاں آئیں گے اور تعلیم حاصل کریں گے اُس وقت خدا تعالیٰ آپ لوگوں کی جیبوں میں سے کسی اور صورت میں روپیہ نکال لے لگا۔مثلاً آپ یہاں آئیں گے تو یہاں کے دُکانداروں سے سو دا خریدیں گے۔اِس طرح دُکانداروں کی آمد نیں بڑھیں گی اور چندہ میں زیادتی ہوگی۔