انوارالعلوم (جلد 21) — Page 377
انوار العلوم جلد ۲۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی اب میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مرکز کے قیام سے اسی صورت میں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جب وہ بار بار یہاں آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جو لوگ بار بار قادیان آنے کی خواہش نہیں رکھتے وہ اپنے ایمانوں کی فکر کریں۔بعض لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کہا ہے ، ربوہ نہیں کہا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ربوہ نہیں کہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قادیان کب کہا تھا ؟ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مدینہ نہیں کہا تھا تو می حضرت نوح علیہ السلام نے مکہ کب کہا تھا ؟ یہ تو الہی سلسلہ ہے جو لوگ اطاعت میں اپنی گردنیں جھکا دیں گے وہ برکتیں حاصل کریں گے اور جو اپنی گردنیں نہیں جھکا ئیں گے وہ خود نقصان کی اُٹھائیں گے ، دوسروں کو اس سے کیا نقصان ہوسکتا ہے۔۔قادیان سے تعلق رکھنے کے متعلق جو کہا گیا تھا وہ اسی لئے تھا تا مرکز سے فائدہ اُٹھایا جائے۔قادیان سے پہلے مکہ سے بوجہ مرکز ہونے کے فائدہ اُٹھایا جاتا تھا۔جب حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار قادیان آنے کے لئے جماعت کو تلقین کی تو مخالفین نے کہا دیکھو ! اب مکہ کی بھی ہتک ہونے لگی حالانکہ وہ نادان یہ نہیں جانتے تھے کہ مکہ سے فائدہ اُٹھانے کے لئے جب کہا گیا تھا تو اُس کے مرکز ہونے کی وجہ سے کہا گیا تھا۔اسی طرح اگر تم میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کہا تھا ر بوہ نہیں کہا تو انہیں یا درکھنا چاہیے کہ یہ جو کچھ تھا قادیان کے مرکز ہونے کی وجہ سے تھا۔اب تو وہ وہاں کی رہ گیا۔اب اگر وہ کالج نہیں ہوں گے جو قادیان میں تھے تو کیا عالم بن جائیں گے؟ پس قطع نظر اس سے کہ ربوہ مرکز ہے یا نہیں ، برکات یہیں ہیں جو ان برکات سے حصہ نہیں لے گا وہ خود نقصان اُٹھائے گا دوسروں کا اس سے کیا بگڑے گا۔پس دوستوں کو یہاں بار بار آنا چاہیے اس سے مشکلات کے حل میں مدد ملے گی۔جن لوگوں کو فرصت ہو وہ یہاں آئیں اور دفاتر میں کام کریں۔آخر نیا مرکز بن رہا ہے اور اس کی تعمیر کے رستہ میں جو مشکلات ہیں انہیں بھی ہم نے ہی حل کرنا ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور بار بار یہاں آئیں اور کام میں مدد دیں۔جن کی تعلیم کا انتظام نہیں وہ یہاں آئیں خود بھی تعلیم حاصل کریں اور بچوں کو