انوارالعلوم (جلد 21) — Page 302
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۲ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح میرا خون چوسے گا یہ زمین کی روٹی بعد میں کھائے گا پہلے اسے مجھے اپنی چھاتیوں سے روٹی کھلانی پڑے گی کیونکہ جب تک یہ جوان نہیں ہو جاتا وہ روٹی جو ایک جو ان کھا سکتا ہے یہ نہیں کھائی سکتا۔اسی طرح ماں یہ بھی سمجھتی ہے کہ جب میرے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے تو اب کوئی غیر شخص اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔غرض یہ تین چیزیں ہیں جن کے متعلق وہ فیصلہ کر لیتی ہے۔(1) ماں جانتی ہے کہ یہ بچہ پالنا پڑے گا۔(۲) ماں جانتی ہے کہ یہ بچہ مجھے ہی پالنا پڑے گا۔(۳) ماں جانتی ہے کہ اس کی پرورش میں مجھے وہ تمام طریقے اختیار کرنے پڑیں گے جن کی کے نتیجہ میں یہ جوان اور طاقتور بن جائے اور جب تک یہ بڑا نہیں ہو جا تا اُس وقت تک مجھے اور ی قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں گی جو ان قربانیوں سے مختلف ہوں گی جو ایک بڑی عمر کے بچہ کے لئے کی جاتی ہیں۔ایک عورت کا بچہ ۱۵ سال کا ہو اور ایک عورت کا بچہ ۲ مہینے کا تو کیا کوئی شخص اُس عورت کو معقول کہہ سکتا ہے جو اپنے دو مہینے کے بچہ کے منہ میں بھی روٹی ڈالے، اسے بھی کھلانے کے لئے پلاؤ دے اور دلیل یہ دے کہ چونکہ فلاں عورت کا ۱۵ سالہ بچہ بھی روٹیاں کھاتا ہے، ہڈیاں چباتا ہے اس لئے میں بھی اسے یہی چیزیں دوں گی۔تم ایسی عورت کو کیا کہو گے؟ اگر پاگل نہیں تو بے وقوف ضرور کہو گے۔اسی طرح جو ملک جوان ہو چکا، جو ملک طاقت پکڑ چکا ، جو ملک قوت حاصل کر چکا، جس کی بنیادیں مضبوط ہو چکیں اُس کے افراد کو جس رنگ میں قربانیاں کرنی پڑیں وہ ان قربانیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں جو ایک ایسے ملک کے افراد کو کرنی پڑتی کی ہیں جس کو نئی حکومت ملی ہو۔نئی حکومت کی مثال بالکل اُس درخت کی سی ہوتی ہے جس نے ابھی کچھ اپنی جڑیں نہیں پکڑیں۔ایک بڑ کے درخت کی کونپل جب زمین میں سے نکلتی ہے تو اُسے بکری بھی اپنے پاؤں سے مسل سکتی ہے لیکن وہی بڑ کا درخت جب بڑا ہوتا ہے تو ایک بیل بھی ٹکر مارے تو اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا بلکہ بڑے سے بڑا بھینسا بھی اسے ٹکرے مارے تو وہ ہل نہیں سکتا۔پس محض اتنی مشابہت سے کام نہیں چل سکتا کہ فلاں خدمت میں ایسا ہوتا ہے اگر اس کی قسم کی مشابہت سے ہی نتائج اخذ کر لئے جائیں تو یہ طریق بالکل اُس بیوقوف ماں کی طرح ہوگا کی جو اپنے دودھ پیتے بچہ کو اس مشابہت کی بناء پر روٹی کھلانے لگ جائے کہ فلاں عورت کا