انوارالعلوم (جلد 21) — Page 303
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۳ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح سے دودھ پندرہ سالہ بچہ روٹی کھاتا ہے میں اپنے بچے کو کیوں نہ روٹی کھلاؤں۔غرض ایک بہت بڑا فرق ہے امریکہ، فرانس، انگلستان، روس اور جرمنی کی حکومتوں اور پاکستان کی حکومت میں۔اور وہ فرق یہ ہے کہ پاکستان بچہ ہے اور وہ جوان ہیں۔جوانوں کے لئے اور قواعد ہوتے ہیں اور بچہ کے لئے اور قواعد ہوتے ہیں۔جوان لڑکے کے لئے ماں رات کو نہیں جاگتی لیکن بچہ کے لئے ماں رات کو جاگتی ہے۔جوان لڑکے کو ماں اپنی چھاتی۔نہیں پلاتی لیکن بچے کو وہ اپنا خون چوساتی ہے۔پس جب تک تم اُن ذمہ داریوں کو نہ سمجھو جو پاکستان کی طرف سے تم پر عائد ہوتی ہیں اُس وقت تک تم محض ان مشابہتوں سے اپنے دلوں کو تسلی نہیں دے سکتے کہ امریکہ اور انگلستان اور فرانس اور جرمنی اور روس میں ایسا ہوتا ہے۔میں تو اخبارات میں جب اس قسم کے مضامین پڑھتا ہوں کہ امریکہ میں یوں ہوتا ہے، انگلستان اور فرانس میں یوں ہوتا ہے تو حیران ہو جاتا ہوں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ چالیس سال کے مضبوط آدمی کی طرح ہیں اور پاکستان ابھی بچہ ہے۔بہر حال ایک پاکستانی کو اور رنگ کی قربانی کرنی کی پڑے گی اگر وہ اپنے ملک کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور انگلستان کے آدمی کو اور رنگ کی قربانی کرنی ہے پڑے گی۔اور پاکستان کے لوگ یہ چاہیں گے کہ وہ اتنی ہی قربانی کریں جتنی امریکہ اور انگلستان نی کے لوگ کر رہے ہیں تو یہ پاکستان کی دشمنی ہوگی۔جس طرح وہ ماں جو اپنے دو مہینے کے بچے کو روٹی یا بوٹی کھلانا چاہتی ہے وہ اس کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتی ہے۔اور باتوں کو جانے دو وہ زائد قربانیاں جو پاکستان کے لوگوں کو کرنی چاہئیں ان کو نظر انداز کر دو۔وہ موٹی موٹی قربانیاں جن میں انگلستان اور امریکہ بھی شامل ہیں انہی کو لے لو اور پھر دیکھو کہ پاکستانی کیا کر رہے ہیں۔یہ واضح بات ہے کہ حکومتیں روپے سے چلتی ہیں مگر جب پاکستان بنا تو شروع شروع میں تو ایک اندھیر بچ گیا۔میں جب مشرقی پنجاب سے آیا تو ریلوے کے بعض بڑے بڑے افسر میرے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ بغیر ٹکٹ لئے زبر دستی ریل میں گھس آتے ہیں اور کہتے ہیں انگریز تو چلا گیا اب اپنی حکومت ہے اب ہم ٹکٹ کیوں کی خریدیں۔یہ ٹھیک ہے کہ اب ہماری اپنی حکومت ہے مگر سوال یہ ہے کہ اپنی چیز کی زیادہ حفاظت