انوارالعلوم (جلد 21) — Page 452
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۲ اسلام اور ملکیت زمین کے جواب میں فرماتا ہے کہ بادشاہ کے نائب یا ماتحت کو تو اس لئے اختیار دیئے جاتے ہیں کہ بادشاہ ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا۔جہاں دونوں موجود ہوں یعنی بادشاہ بھی اُسی طرح موجود ہو جس طرح ماتحت۔جیسے شاہی دربار ہوتا ہے کیا اس جگہ پر بھی بادشاہ کے اختیارات ماتحتوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔بلکہ ایسے موقع پر تو کسی اور کو مخاطب کرنا بھی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اسے اس طرح اختیار سپر د کرنے کی ضرورت نہیں اور اس کے معاملہ میں نائب کی مثال درست نہیں بلکہ یہ مثال درست ہے کہ ایک آقا اپنے گھر میں اپنے غلام کو مساوی حقوق دیدے مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا۔دور کے علاقوں میں نیا بت کے اختیارات دیئے جاتے ہیں مگر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک بادشاہ اپنے غلام سے یہ کہے کہ تمہیں میری بیوی بچوں پر یا گھر کے ساز و سامان پر یا نوکروں پر برابر کے اختیارات حاصل ہیں۔اس طرح تو وہ دو عملی پیدا ہوگی کہ اندھیر آجائے گا اور مالک کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہے گی۔پس یہ دلیل جو مشرک دیتے ہیں غلط ہے اور خدا تعالیٰ ہر گز کسی کو اختیار عبودیت عطا نہیں فرما تا کیونکہ وہ ذرے ذرے کا خود واقف ہے اور ذرے ذرے تک اُس کا اقتدار براہ راست پہنچتا ہے۔اُس کو تحصیلیں اور ضلع اور گورنریاں بنانے کی ضرورت نہیں۔اصل مفہوم تو اس آیت کا وہ ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے لیکن ضمنی طور پر اس سے اور نتائج اخذ کرنا قرآنی اصول کے خلاف نہیں بلکہ درست ہے۔پس اگر اس آیت سے وہ معنے بھی نکلتے ہوں جو کہ زمین کو برا بر تقسیم کرنے کے خواہش مند مگر ذاتی قابلیتوں کے نتائج میں امتیاز قائم رکھنے کو جائز سمجھنے والے لوگ نکالتے ہیں تو یقیناً میں اس کو درست تسلیم کروں گا۔لیکن ایک ادنیٰ تدبر سے بھی یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ ان کے لئے ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ یہ استدلال ان کے پہلے استدلال کے مخالف پڑتا ہے۔اور قرآن کریم کی کسی آیت کے وہ معنی نہیں لئے جا سکتے جو اس کی کسی دوسری آیت کو ر ڈ کرتے ہوں کیونکہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا بلکہ کسی معمولی عقلمند انسان کے کلام میں بھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔اگر مختلف ذاتی قابلیت رکھنے والے لوگوں میں مختلف مدارج کو ملحوظ رکھنا ہوگا تو پھر بڑی اور چھوٹی جائدا در رکھنے والوں میں بھی مختلف مدارج کوملحوظ رکھنا ہوگا کیونکہ سوال یہ ہے کہ بڑی