انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 453

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۳ اسلام اور ملکیت زمین جائداد کسی شخص کے پاس آتی کس طرح ہے؟ ظاہر ہے کہ بڑی جائداد تین ہی جائز ذریعوں سے آسکتی ہے۔اول اس طرح کہ کسی نے کوئی بڑی جائدادخریدی ہو۔اگر کسی نے کوئی بڑی جائداد خریدی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ بہت سے روپے کا مالک ہوگا، وہ روپیہ اس نے اپنی ذاتی قابلیت سے ہی کمایا ہوگا۔دوسرے تھوڑے سے روپیہ کے ساتھ وہ جائداد بڑھاتا چلا گیا ہو گا۔اگر ایسا کی ہے تو یہ بھی ذاتی قابلیت کا ہی نتیجہ ہوگا۔تیرے ذاتی قابلیت سے پیدا کرنے والے کی جائداد کا وارث ہوکر۔اگر شریعت نے ذاتی قابلیت کی قیمت کو تسلیم کیا ہے تو ذاتی قابلیت سے اعلیٰ نوکری پر پہنچنے کی والا اور ذاتی قابلیت سے اعلیٰ تجارت حاصل کرنے والا اور ذاتی قابلیت سے اعلیٰ صنعت و حرفت کا مالک ہونے والا اور ذاتی قابلیت سے زیادہ زمین کا مالک ہونے والا برابر ہیں ، ان میں امتیاز کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔زمین بھی نتیجہ ہے ذاتی قابلیت کا ، اور عہدہ بھی نتیجہ ہے ذاتی قابلیت کا اور تجارت بھی نتیجہ ہے ذاتی قابلیت کا۔اور صنعت و حرفت بھی نتیجہ ہے ذاتی قابلیت کا، اگر کہا جائے کہ ہم تو اس شخص کے متعلق بات نہیں کرتے جس نے کہ ذاتی قابلیت کے ماتحت بہت سی زمین حاصل کر لی ہو بلکہ ہم تو اُن اشخاص کا ذکر کرتے ہیں جن کو ورثہ میں زمین ملی ہو تو ہے اس پر بھی وہی اعتراض ہوتا ہے کیونکہ اگر ورثہ میں بڑی زمین مل جانے پر اعتراض ہے تو ورثہ میں بڑی کوٹھی مل جانے پر بھی اعتراض ہونا چاہئے۔ورثہ میں بڑی تجارت مل جانے پر بھی کی اعتراض ہونا چاہئے۔ورثہ میں بڑی صنعت و حرفت مل جانے پر بھی اعتراض ہونا چاہئے۔آخر جو شخص تین یا چار یا پانچ ہزار روپیہ گورنمنٹ سے تنخواہ لیتا ہے۔کیا اُسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کی ساری کی ساری رقم ماہوار خرچ کر دے؟ یا اسے اجازت ہوتی ہے کہ وہ بچے ہوئے رو پہیہ سے کوٹھیاں اور مکان خریدے؟ یا صنعت و حرفت کے کارخانوں کے حصے خریدے؟ یا بنک میں روپیہ جمع کرا دے؟ اور اگر شریعت کا پابند نہیں تو اس کے سود سے فائدہ اُٹھائے ؟ اور اگر اسے یہ اجازت ہوتی ہے اور واقعہ میں ایسی اجازت ہے تو کیا ان کوٹھیوں اور مکانوں اور دکانوں اور تجارتی حصوں اور کارخانوں کے حصوں کی وارث اس کے بعد اُس کی اولاد ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ؟ اگر اُس کی اولا د اس کے بعد وارث ہوتی ہے حالانکہ اس کمائی میں اولاد کی ذاتی قابلیت