انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 451

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۱ اسلام اور ملکیت زمین کوشش کے مطابق نتیجہ مل جائے گا۔پس ہمیں ست نہیں ہونا چاہئے۔زمی کو برابر تقسیم کرنے کے مدعی اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں اس قانوں سے یہ نتیجہ نہ نکال لیا جائے کہ ذاتی قابلیت کی کوئی قیمت اسلام تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اس سے ان کی اپنی تنخواہوں اور اپنے کاروبار اور اپنی صنعت و حرفت پر بھی اثر پڑتا ہے اس لئے وہ یہ اصول بھی اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ اسلام نے ذاتی قابلیت کی قیمت کو تسلیم کیا ہے۔اس لئے جو شخص ذاتی قابلیت سے کچھ کمائے وہ اُسی کا حق ہے۔چنانچہ اس کے ثبوت میں وہ قرآن شریف کی یہ آیت پیش کرتے ہیں۔واللهُ فَضَّلَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فَضْلُوا بِرَادِي رِزْقِهِمْ عَلى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءَ افَبِنِعْمَةِ اللهِ يَجْحَدُونَ ۷۲ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے۔پس وہ لوگ جن کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنے غلاموں کو اپنا رزق اس طرح نہیں دیتے کہ غلام کا اور ان کا حق اُس میں برا بر ہو جائے۔کیا اس دلیل کے ہوتے ہوئے بھی مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں؟ اس سے یہ لوگ استدلال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ذاتی قابلیت کے جوہر کی قیمت کو تسلیم کیا ہے پس زمین سے زیادہ کمانا تو نا جائز ہے لیکن ذاتی قابلیت سے زیادہ کما نا جائز ہے۔مذکورہ بالا آیت بھی قرآن کریم میں شرک کے رڈ کے لئے آئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے مال اور اپنی جائیداد میں اپنے غلام کو برابر کا شریک نہیں بناتا تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی ملکیت میں برابر کا شریک بنا کر ان کو ایک معبود کا رتبہ کس طرح دے سکتا ہے۔جب مشرکین پر قرآن کریم میں اعتراض کئے گئے کہ شرک کا مسئلہ عقلاً کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوسکتا تو اُنہوں نے اپنے پیشرو مشرکین کی طرح شرک کی یہ تاویل کی کہ جس کو تم شرک کہتے ہو وہ شرک ہے ہی نہیں وہ تو کامل تو حید ہے۔ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے سواء کوئی اور شخص بھی اپنی ذات میں دنیا کا حاکم ہے بلکہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود اپنے بعض مقرب بندوں کو اپنے اختیارات حکومت سونپ دیئے ہیں اس لئے جن لوگوں کی ہم پرستش کر رہے ہیں وہ پرستش در حقیقت خدا تعالیٰ ہی کی پرستش ہے پس یہ شرک نہیں۔اللہ تعالیٰ اس