انوارالعلوم (جلد 21) — Page 437
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۷ اسلام اور ملکیت زمین درجہ رکھتی ہے ) اسی طرح حضرت امام ابو عبد اللہ سے یعقوب بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ میری جان آپ پر قربان ہو آپ کا کیا فتویٰ ہے اُس زمین کے بارہ میں جو مجھے بادشاہ سے ملے پھر میں اُس کو آگے مقاطعہ پر دے دوں اور یہ شرط کروں کہ جو کچھ اس میں سے نکلے، سلطنت کا حق دینے کے بعد جو بچے گا اُس میں سے نصف یا ثلث میرا ہوگا آیا یہ جائز ہے؟ حضرت امام نے فرمایا۔اس میں کوئی حرج نہیں میں بھی اسی طرح اپنی زمینوں کی کے متعلق کیا کرتا ہوں۔۴۹ اسی طرح ابراہیم کرخی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوعبد اللہ سے پوچھا کہ میں اگر کسی ذمی کے ساتھ یہ معاہدہ کروں کہ زمین اور پیج اور بیل میرے ہونگے اور ذمی کے ذمہ زمین کی نگہداشت اور پانی دینا اور ہل چلانا اور گڈائی وغیرہ کرنا ہو گا یہاں تک کہ گندم یا جو پک جائیں پھر جو فصل پیدا ہو اُس میں سے حکومت کا خرچ ادا کرنے کے بعد جو بچے اُس میں سے وہ ذمی مزارع تو تیسرا حصہ لے اور باقی دوحصے میرے ہوں تو کیا یہ جائز ہے؟ حضرت امام ابو عبد اللہ نے فرمایا۔اس میں کوئی حرج نہیں۔۵۰ ائمہ اہل السنت و اہل حدیث اور دیگر علماء کا بھی یہی فیصلہ ہے چنانچہ امام نووی شرح مسلم کی جلد ۲ صفحہ ۱۴ پر لکھتے ہیں کہ قال ابن ابی لیلی و ابویوسف و محمد وسائر الكوفيين وفقهاء المحدثين واحمد وابن خزيمة وابن شريح وآخرون تجوز المساقاة | والمزارعة مجتمعتين ويجوز كل واحد منهما منفردةً یعنی ابن ابی لیلے اور ابو یوسف اور محمد اور کوفہ کے دوسرے تمام علماء اور محدثین میں سے سب بڑے بڑے فقہاء اور امام احمد اور شافعیوں میں سے ابن خزیمہ اور ابن شریح اور اور بہت سے علماء باغ اور اس کی زمین کو اکٹھا کی ٹھیکے پر لینا یا دینا یا زمین کو الگ ٹھیکے پر دینا اور باغ کو الگ ٹھیکے پر دینا جائز سمجھتے ہیں۔اسی صفحہ پر اُن کا یہ قول بھی درج ہے کہ ابن شریح اور ابن خزیمہ اور ان کے سوا ہمارے شافعی مذہب کے دوسرے بڑے علماء کی بھی یہی رائے ہے اور یہی پسندیدہ فیصلہ ہے اور اسی پر ہمارا عمل ہے۔پھر امام نووی کی یہ رائے بھی اسی صفحہ پر درج ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمان اور